رمضان المبارک پر حضور نبی کریم صلی اللہ علی وسلم کا وعظ

Alhamduli’Allahi Rabbil-‘Aalameen
wa-Salaatu wa-Salaamu ‘alaa Ashrafil-Anbiyaa-e-wal-Mursaleen~ `Amma `Baa`d.

‘Assalaamu `Alaykum wa Rahmatullaahi wa Barakaatuhu’

*Virtues  Of  The  Month  Of  Ramadhaan*

*PROPHET*~[Sallallaahu `Alaihi wa Sallam]~ 
  First   Khutbah… !

‘O Muslims… Fear Allaah and Obey Him !~
 
I give you glad tidings as the month of ‘Ramadaan’
 is approaching…
 This is the month in which the ‘Qur’aan’ was revealed
as a guidance for mankind, as well as a clarification and differentiation between truth and falsehood !

During this month, the Gates of Mercy are opened 
and the gates of hell are sealed.

Satan and all other Jinn are chained during this blessed month…Rewards for good deeds performed in this month 
are multiplied, sins forgiven and supplications responded 
to and answered.
It is the month of Perseverance, Mercy, 
Compassion and Charity.

Salmaan Al-Faarisi ~ 
[may Allaah be pleased with him] reported that…

 Prophet ~[sallallaahu `Alaihi wa sallam]
gave a speech on the last day of ‘Sha’baan’, and said…
"O people !
You are being approached by a great and blessed month.
 A month which contains a Night that is better than
 One Thousand  [1000]  months !
 
Allaah made fasting within it an obligation,
and made praying on that night an optional 
act of worship.
 
he who performs any righteous voluntary act within it, 
will be rewarded like one who doesan obligatory act at any time other than during ‘Ramadaan’…{!}
 
‘he who performs an obligatory act of worship within it will 
be rewarded like he who performs Seventy~[70] acts of worship at any time outside this month !
 [‘Alhamdullilah’ !]
 

It is the month of Perseverance -and 
perseverance is rewarded with ‘Jannah’~{Paradise}!
 
It is the month of Compassion,
in which the sustenance of a believer increases !
 
"he who feeds a fasting person within this month has his sins forgiven and he will be protected and released from the hell fire… he also gets the reward of that person’s fasting without decreasing the reward of the fasting person.”

Then the companions~
[may Allaah be pleased with them] said…

‘O messenger of Allaah ! Not all of us can find the extra food needed to feed another fasting person’.

So the Prophet [Sallallaahu ‘Alaihi wa Sallam] responded:
 
‘Allaah will give you the reward of feeding a fasting person even if you were to give him just a sip of milk,
…a date, or a sip of water…{!}

He who feeds a fasting person until he is full,
Allaah will make him drink out of my river, a sip of which will never allow him to be thirsty until he enters ‘Jannah’…!’

Then he continued…
‘This is the month the beginning of which is Mercy,
the middle part is Forgiveness…
and the last part of it is Release from Hellfire.’

(Source: Al-Bayhaqi).

"So, pay attention, may Allaah be merciful to you all”
 ‘Pay attention !
O believers, to the speech of the Prophet
{Sallallaahu `Alaihi wa Sallam }

in which he gave glad tidings of the month of ‘Ramadaan’ to his companions and informed them of its virtues and how the reward of righteous deeds performed therein is multiplied.
Indeed, it is a great and blessed month…!
 
The Prophet [Sallallaahu `Alaihi wa Sallam ] said..

referring to the month of Ramadaan~

"Never has a better month arrived
for the believers and never has a worse month come
to pass for the hypocrites.”

بندہ ہے کوچہ گرد ابھی خواجہ بلند بام آبھی

کل بینک سے رقم نکلوا کر لوٹ رہا تھا۔ وہیں ایک فری ریستوراں بھی ہے جہاں غریبوں کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ سڑک زیر تعمیر تھی اور وہاں مٹی کا ایک ڈھیر جمع تھا۔ میں نے دیکھا پانچ چھے سال کا ایک بچہ دوڑتا ہوا آتا اورمٹی پر کود جاتا۔ کبھی کبھی وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتا۔ مجھے وہ بچہ اچھا لگا میں نے پوچھا بیٹے آپ نے ناشتہ کرلیا۔ نہیں اپنی باری کا انتظار کررہا ہوں۔ اس نے ریستوراں کی جانب اشارہ کیا جہاں غریبوں کو مفت کھانا دیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ایک وقت صرف دو لوگ آئیں۔۔ مجھے اس کی معصومیت اور سرخوشی اچھی لگی۔ میں نے سوچا جب تک انقلاب نہیں آتا ہمارے بچے اسی طرح رُلتے رہیں گے۔
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زند گی روح امم کی حیات کش مکش انقلاب
اس بچے کو تو میں نے پراٹھا دلادیا ۔ وہ اسی پر خوش ہوگیا۔ اور یہ بھی نہ سوچاوہ کس سے کھاـءوں گا؟ لیکن میں سوچنے لگا کہ قومی وساءل کا ایک تہائی تو سود کی ادائیگی میں لگ جاتا ہے۔ نصف فوج کھاجاتی ہے۔ باقی کرپٹ حکمراں کھاجاتے ہیں۔ عوام بے چارے کیا کریں؟پاکستان کے قیام کو ستر برس ہوچکے ہیں۔ پھر بھی ہمارے عوام ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔
بندہ ہے کوچہ گرد ابھی خواجہ ہے بلندبام ابھی عشق گرہ کشا کا فیض نہیں ہے عام ابھی

صبروضبط کی بھی حدہوتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بستی میں لوگ غربت کے سبب بھوکے سوجائیں اس پرسے اللہ کی حفاظت ہٹالی جاتی ہے۔ اللہ نے کچھ لوگوں کو زیادہ رزق اس لیے دیا ہے کہ وہ ان کی آزماءش کرنا چاہتا ہے کہ وہ اس میں سے غرباء و محروم افراد کا حق نکالتے ہیں یا نہیں۔ کم ہی لوگ اس ٓآزمءش پر پورے اترتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ نے ضمانت دی ہے کہ صدقہ کا کم ازکم دس گنا دنیا میں واپس کیا جاتا ہے اور ٓآخرت میں کم از کم سترگنا اس کا ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ افسوس مولوی صدقہ خیرات کی طرف کم ہی لوگوں کی توجہ مبذول کراتے ہیں۔ زیادہ زور رسومات عبادات پر ہے۔ حقوق العباد کی بات کوئی نہیں کرتا۔ کیوںکہ یہ علم اگر عام ہوجائے تو عوام کبھی کرپٹ حکومتیں برداشت نہ کریں۔ یہاں تو طارق جمیل فضاءل اعمال کے نام پر ضعیف حدیثیں سناکر لوگوں کا وقت ضاءع کرتا رہتا ہے۔ اور حکومت کی خرابی کو عوام کے اعمال کی خرابی سبب قرار دیتا ہے۔ اس ضمن میں حکومت اسے مفت حج اور دس لاکھ روپئے کی رشوت دیتی ہے۔ ایسے ہی بد نہاد مولوی قوم کی بدنصیبی کا باعث بنے ہوئے ہیں

Short sightedness of Ummate Muslimah

امت کی بے بصیرتی
متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی یہ کس کافرادا کاغمزہ خون ریز ہے ساقی
بالعین جیسا اقبال کی چشم پیش بیں نے دیکھاتھا عالم اسلام کے رہنما مل کر کفرضلالت کے سرغنہ امریکہ کو اپنی دولت اوروسائل سے مالامال کررہے ہیں۔ سعودی عرب اربوں ڈالر ضائع کرکے امریکہ کا فرسودہ اور بے کار اسلحہ خریدرہا ہے اور ایران امریکی اشارے پر سعودی عرب کے لیے خطرہ بن گیا ہے ۔ اس کی منافقت اس حقیقت سے واضح ہے کہ وہ شام میں علویوں کی کافر حکومت کی مدد کے لیے فوجی اور مادی مدد کررہا ہے اور روس کی بے دین و کافر حکومت اس کی مدد میں مظلوم مسلمانوں پر بم برسارہی ہے۔ اللہ ہی ہے جو شام کے ولی صفت مسلمانوں کی مددفرمائے۔کیوں کہ سعودیوں کا توکل اللہ پر نہیں ہے وہ اپنی حفاظت کے لیے امریکہ کو رشوت دے رہا ہے۔ جبکہ ایران لبیک یا مہدی کہہ کر یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ امام مہدی کی نمائندگی کررہاہے۔حالانکہ شام کے ولی صفت مسلمانوں پرنہ صرف وہ بمباری کررہا ہے بلکہ روس سے بھی مسلمانوں پر بم برسارہا ہے جن کا واحد قصور صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کی وحدانیت میں یقین رکھتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشار الاسد کے قبیلے کا نام تک بتادیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کرے گا۔ اللہ کا احسان ہے کہ ہم اندھیروں میں نہیں ہیں بلکہ واضح طور پر بُرے اور بھلے کو پہچان رہے ہیں۔اقبالؒ نے صاف صاف بتادیا ہے:
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار وہی مہدی وہی آخر زمانی
یعنی ہمیں حضرت امام مہدی کے انتظار میں نہیں بیٹھے رہنا چاہیئے بلکہ جو بن پڑے مظلوم مسلمانوں کے لیے کرنا چاہیئے۔ خواہ وہ دعا یا معمولی مالی امداد ہی کیوں نہ ہو۔ اس آخری دور میں صبر ہی ہمارا طرزعمل ہونا چاہیئے کیوں کہ دنیا کی کوئی طاقت رب تعالیٰ کو شکست نہیں دے سکتی۔ اللہ رب العزت نے دوسری ہی سورت میں صاف صاف بتادیا ہے:
وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر۔
(اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے نہ مددگار)
کرنے کا اصل کام تو یہ ہوتا کہ عالم اسلام متحد ہوکر عالم کفر کے سامنے ڈٹ جاتا جیسے افغان اور شامی مسلمان ڈٹ گئے۔ لیکن قیادت کا فقدان اس لائحہ عمل کی راہ میں مزاحم ہے ۔ لہذا ہم صبرسے کام لے کرہی اس مصیبت کو ٹال سکتے ہیں۔ البتہ مسلمان قوم کو آگہی فراہم کرنا ہمارا فریضہ ہونا چاہیئے۔اگر ہم امت مسلمہ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا قائل کرسکے تو ہم زوال امت کو کسی نہ کسی حد تک ٹال سکتے ہیں۔ البتہ اگر ہم نے قوم کو تبلیغی نصاب کی رسوماتِ عبادت پر چھوڑدیا توامت مسلمہ کے سنبھلنے کا کوئی چانس نہ رہ جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ انگریز نے اپنے دور میں تبلیغی جماعت اورقادیانی جماعت کی داغ بیل رکھی تاکہ مسلمان بھی جہاد کا خیال بھی دل میں نہ لاسکیں اور ہندوستان پر ان کی حکومت ہمیشہ قائم رکھی جاسکے۔ وہ تو اللہ بھلا کرے علامہ اقبال کا جن کی کوششوں سے دیوبندی منافقت اور ابوالکلام کی گاندھی کے ساتھ مل کرکی گئی سازشوں کا راز بے نقاب ہوا اور قیامِ پاکستان ممکن ہوا۔

خون مسلم کی ارزانی

غم کے طوفاں سے ستلج کے کنارے بے تاب ایک سیاہی سی رخ خورشید پہ پھرنے کے قریب
چاند خود اپنی جگہ ٹوٹ کے گرنے کے قریب

یہ ایک بھولی بسیری نظم کے اشعار ہیں جو 1947 میں مسلم لہو کی ارزانی کے بارے میں کہے گئے تھے۔ کتنے لوگوں نے انھیں فراموش کردیا لیکن بعض درد آشنا دل انیھں نہ بھلا سکے۔
ان کا پلان انگریز حکمرانون نے بنایا تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے اس کا نفاذ کیا تھا۔ اور سکھوں اور ہندءوں نے ان کو عملی جامہ پہنیا یا تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے ابوالکلام آزاد اور حسین احمد مدنی نے قومی غداروں کارول ادا کیا تھا۔ ان مردودووں کو خدا کا ذرا خوف نہ تھا
اور قہر تو یہ ہے کہ ان کے چیلے چپاٹے ہی اج کے نام نہاد علماء کے سرخیل بنے ہوئے ہیں۔شرمو حیا تو انھیں چھوکر نہیں گذری جو خود اپنی غلطی کا اعتررف کرکے کنارہ کش ہوجاے۔
آج بھی حسین احمد مدنی اور ابوالکلام کے تابعیں وطن عزیز میں وافر مقدار میں مل جاتے ہیں۔۔
اللہ انھیں قرار واقعی سزا عطا فرمائے۔
نظم کی کتابوں کے علاوہ دردمند دل رکھنے والے انساںون نے ” جب امرتسر جل رہا تھا” جیسی کتابیں لکھیں اور نئی نسل کو احساس دلایا کہ کتنی قربانیوں کے بعد وطن عزیز آزادی کی نعمت سے سفراز ہوا۔ بھارتی حکومت بھارتی مسلمانوں سے نئی تاریخ لکھوا رہی ہے اور عظیم مسلم فاتحین کی کردار کشی کررہی ہے۔ کل ہی میں نے ایک بھارتی رائیٹر سے احمد شاہ ابدالی ؒ کے کردار کے بارے میں ہرزہ سرائی دیکھی۔ وہ عظیم مجاہد جو صف 45 ہزار کی فوج سے مرہٹوں کے نو لاکھ کے لشکر کو خاک چٹا چکا تھا اسے لالچی اور بد کردار دکھایا گیا۔
بھارت جانتا ہے جب تک مسلمان اللہ کے حکم پر چلتے رہیں گے۔ کامیابی ان کے ہمراہ رہے گی۔ اسی لیے وہ اپنی مکارانہ چالوں سے باز نہیں آریاہے۔

خضر راہ

علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ قران کریم کے بہترین مفسرتھے۔ انہوں نے اپنی بصیرت سے سورہ الکہف کے معنی سمجھ لیے تھے۔ اس لیے ان کی نظم خضر راہ سے اقتباس پیش کررہا ہوں۔ غور کرنے سے آخری دور کے پوشیدہ راز کھلیں گے۔

اے تری چشمِ جہاں بيں پر وہ طوفاں آشکار
جن کے ہنگامے ابھی دريا ميں سوتے ہيں خموش

‘کشتئ مسکين‘ و ‘جانِ پاک’ و ‘ديوارِ يتيم‘،
علمِ موسیٰ بھی ہے تيرے سامنے حيرت فروش—(1)

چھوڑ کر آبادياں رہتا ہے تو صحرا نورد
زندگی تيری ہے بے روز و شب و فردا دوش

زندگی کا راز کيا ہے، سلطنت کيا چيز ہے
اور يہ سرمايہ و محنت ميں ہے کيسا خروش

ہو رہا ہے ايشيا کا خرقہءِ ديرينہ چاک
نوجواں اقوامِ نو دولت کے ہيں پيرايہ پوش

گرچہ اسکندر رہا محرومِ آبِ زندگی
فطرتِ اسکندری اب تک ہے گرمِ نائونوش

بيچتا ہے ہاشمی ناموسِ دينِ مصطفیٰ
خاک و خوں ميں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش—(2)

آگ ہے، اولادِ ابراہيم ہے، نمرود ہے
کيا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے!

(1)—سورہ الکھف کی آیات 60-82 کا خوب خلاصہ کیا ہے۔(دیکھئے :الکھف ربط)

Real Reason for Downfall of Ummah

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ دین کی فکر کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے نوازتا ہے ۔ قران ایک زندہ کتاب ہے جو ذہن میں اٹھنے والے ہرسوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ گذژستہ چند دنوں سے میں متفکر تھا کہ دشمنان دیں ہمارے خلاف زبانی پروپیگنڈہ بھی کررہے ہیں اور عملی جنگی اقدام بھی۔ لیکن ہماری طرف سے کوئی جواب نہیں دیا جاتا یا نیم دلی سے زبانی جواب دے کے سمجھ لیا جاتا ہے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کرلیا ہے۔ پاکستان کی آزادی کو انسٹھ برس ہونے کو آئے لیکن ابھی تک ہم نہ شرعی قانوں نافذ کرسکے ہیں اور نہ ملک میں اسلامی نظام انصاف قائم کرسکے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہم دنیا کے لیئے ایک بے وقعت قوم بن کررہ گئے ہیں۔ امریکہ کے حکم پر ہم اپنے ہی بھائیوں سے لڑتے ہیں اور دشمن کی عملی کاروائی کے جواب میں ہم زبانی بیان کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے وقار کا تحفظ کرلیا۔
میں پاکستانی مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر غور کررہا تھا۔ اسی اثنا میں مجھے ایک مسجد میں نماز عشاء پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ میں یہ سن کر حیران رہ گیا کہ قران کریم کی آیات جو امام تلاوت کررہے تھے۔ میرے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کی مکمل اور کافی جواب ہیں:
یہ سورہ صف کی آیات تھیں جنہوں نے میری آنکھیں کھول دیں۔ذرا غور سے سنیں رب تعالیٰ کیا فرماتا ہے۔
ہمارا مسئلہ اپنی ملت کے زوال کا نہ صرف ثواب جاننا ہے بلکہ ان کا تدارک بھی کرنا ہے۔ کیوں کہ اس کے لیے فرشتے نہیں آئیں گے۔
اس فکر میں کئی دنوں سے گم ‘ میں ایک ایسی مسجد میں جاپہنچا جہاں امام سورہ صف کی تلاوت کررہا تھا۔ سن کر میں فورا سمجھ گیا کہ یہ میری تلاش کا جواب ہے۔ترجمہ یہ ہے:
’’ اللہ کی تسبیح کرتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اے ایمان لانے والوں تم وہ کہتے کیوں ہو جس پر خود عمل نہیں کرتے۔ اللہ کے نزدیک یہ ایک بڑا گناہ ہے کہ ایک مسلم دوسروں کو وہ کہے جس پر خود عمل نہیں کرتا۔ اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں یوں لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔ ‘
برناباس کی انجیل میں آتا ہے جو حضرت عیسیٰ کی زندگی میں لکھی جانے والی واحد انجیل ہے جسے انہوں نے خود بھی دیکھا اور پسند فرمایاتھا ‘ کہ اللہ تعالیٰ ایک باراُن سے ناراض ہوگئے تھے کیوں کہ انہوں جوش میں ایک حکم الٰہی کو خود عمل کرنے سے پہلے اپنے حواریوں کوکرنے کا حکم دیا تھا۔اللہ کی ناراضی پر وہ سہم گئے تھے اور توبہ کی تھی کہ کبھی ایسا نہیں کریں گے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے دیندار کہلانے والے لوگ آج لوگوں کو ان باتوں کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں جن پر وہ خود عمل نہیں کرتے۔ اللہ کی ناراضگی
کی پرواہ نہ کرنے والے زیادہ تر تبلیغی جماعت کے لوگ ہیں جنھیں انگریزوں نے اس لیے کھڑا کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے جہاد کا خاتمہ کرسکیں۔ بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے قادیانی غلام احمد کو کھڑا کیا تھا۔ کس قدر بے بصیرتی تھی کہ چالیس ہزار انگریز
۔ چالیس کڑوڑ ہندوستانیوں
پر حکومت کرگئے جن میں دس کڑوڑ مسلمان بھی تھے۔ اسی لیے علامہ اقبال ؒ نے فرمایا تھا کہ غلامی دراصل ذہنی ہوتی ہے
بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر کہ جہاں میں فقط مردانِ حُرکی آنکھ ہے بینا
کراچی ۲۳ مارچ ۱۷ محمد جاوید اقبال کلیم

اہل دین و دانش کی ناکامی

متاع دین و دانش لٹ گئی آللہ والوں کی یہ کس کافر ادا کاغمزہ ءِ خوں ریز ہے ساقی
کیا ِاس دنیا کا مال و منال اُس دنیا میں کام آئے گا؟ ہم جانتے ہیں کہ یہ کاغذی نوٹ وہاں کام نہیں آئیں گے۔ پھر بھی ڈالر کی خاطر ہمارے سیاستداں بیورو کریٹس اور جنرلز وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں جسے عرف عام میں غداری کہا جاتا ہے۔ کاش ہمیں آحساس ہوتا کہ ہمارے رہنما ہمیں کاغذی کرنسی کے عیوض فروخت کرچکے ہیں۔ حتیٰ کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی مقروض ہوگئی ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کے بجائے اتوار کو ہوتی ہے۔ اور اسکول اور کالج کے نصاب سے قران کریم ہی نہیں بلکہ علامہ اقبال کا کلام بھی خارج کیا گیا ہے۔ قومی دن پر بھی کلام اقبال سامعہ نواز نہیں ہوتا۔
پاکستانیوں کو نہ صرف میڈیا غلط اور نامناسب ملتا ہے بلکہ ایک بھی متوازن اور دیانت دار اخبار مطالعے کے لیے موجود نہیں ہے۔میں نے یکے بعد دیگرے کئی اخبار اآزمائے ہیں لیکن سبھی حکومت کے کھلے حامی نکلے یا درپردہ حلقہ بگوش۔ حبیب جالب یاد آتے ہین؛
لٹ گئی اس دور میں اہل قلم کی آبرو بک رہے ہیں صحافی بیسواءوں کی جگہ۔
آج کل میں روزنامہ اسلام پڑھ رہا ہوں۔ اس کی خرابی یہ ہے کہ اسے ضمیر فروش مولوی تقی عثمانی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ بھلا جو شخص پیسوں کی خاطر میزان بینک کو شرح سود کی بنیاد پر منافع مقرر کرنے کی اجازت دے اس سے بڑھ کر خبیث اور منافق کون ہوگ اسلام نامی اخبار میں قران اور حدیث کے بجائے
موجود دور کے گمراہ مولویوں کا تذکرہ پایا جاتا ہے اور رب تعالیٰ کی ہدایت کہ صرف مسلمان کے نام سے پہچانے جاءو نظر انداز کردی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں سے ملت اسلامیہ کو بچائے۔