خضر راہ

علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ قران کریم کے بہترین مفسرتھے۔ انہوں نے اپنی بصیرت سے سورہ الکہف کے معنی سمجھ لیے تھے۔ اس لیے ان کی نظم خضر راہ سے اقتباس پیش کررہا ہوں۔ غور کرنے سے آخری دور کے پوشیدہ راز کھلیں گے۔

اے تری چشمِ جہاں بيں پر وہ طوفاں آشکار
جن کے ہنگامے ابھی دريا ميں سوتے ہيں خموش

‘کشتئ مسکين‘ و ‘جانِ پاک’ و ‘ديوارِ يتيم‘،
علمِ موسیٰ بھی ہے تيرے سامنے حيرت فروش—(1)

چھوڑ کر آبادياں رہتا ہے تو صحرا نورد
زندگی تيری ہے بے روز و شب و فردا دوش

زندگی کا راز کيا ہے، سلطنت کيا چيز ہے
اور يہ سرمايہ و محنت ميں ہے کيسا خروش

ہو رہا ہے ايشيا کا خرقہءِ ديرينہ چاک
نوجواں اقوامِ نو دولت کے ہيں پيرايہ پوش

گرچہ اسکندر رہا محرومِ آبِ زندگی
فطرتِ اسکندری اب تک ہے گرمِ نائونوش

بيچتا ہے ہاشمی ناموسِ دينِ مصطفیٰ
خاک و خوں ميں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش—(2)

آگ ہے، اولادِ ابراہيم ہے، نمرود ہے
کيا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے!

(1)—سورہ الکھف کی آیات 60-82 کا خوب خلاصہ کیا ہے۔(دیکھئے :الکھف ربط)

Real Reason for Downfall of Ummah

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ دین کی فکر کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے نوازتا ہے ۔ قران ایک زندہ کتاب ہے جو ذہن میں اٹھنے والے ہرسوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ گذژستہ چند دنوں سے میں متفکر تھا کہ دشمنان دیں ہمارے خلاف زبانی پروپیگنڈہ بھی کررہے ہیں اور عملی جنگی اقدام بھی۔ لیکن ہماری طرف سے کوئی جواب نہیں دیا جاتا یا نیم دلی سے زبانی جواب دے کے سمجھ لیا جاتا ہے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کرلیا ہے۔ پاکستان کی آزادی کو انسٹھ برس ہونے کو آئے لیکن ابھی تک ہم نہ شرعی قانوں نافذ کرسکے ہیں اور نہ ملک میں اسلامی نظام انصاف قائم کرسکے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہم دنیا کے لیئے ایک بے وقعت قوم بن کررہ گئے ہیں۔ امریکہ کے حکم پر ہم اپنے ہی بھائیوں سے لڑتے ہیں اور دشمن کی عملی کاروائی کے جواب میں ہم زبانی بیان کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے وقار کا تحفظ کرلیا۔
میں پاکستانی مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر غور کررہا تھا۔ اسی اثنا میں مجھے ایک مسجد میں نماز عشاء پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ میں یہ سن کر حیران رہ گیا کہ قران کریم کی آیات جو امام تلاوت کررہے تھے۔ میرے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کی مکمل اور کافی جواب ہیں:
یہ سورہ صف کی آیات تھیں جنہوں نے میری آنکھیں کھول دیں۔ذرا غور سے سنیں رب تعالیٰ کیا فرماتا ہے۔
ہمارا مسئلہ اپنی ملت کے زوال کا نہ صرف ثواب جاننا ہے بلکہ ان کا تدارک بھی کرنا ہے۔ کیوں کہ اس کے لیے فرشتے نہیں آئیں گے۔
اس فکر میں کئی دنوں سے گم ‘ میں ایک ایسی مسجد میں جاپہنچا جہاں امام سورہ صف کی تلاوت کررہا تھا۔ سن کر میں فورا سمجھ گیا کہ یہ میری تلاش کا جواب ہے۔ترجمہ یہ ہے:
’’ اللہ کی تسبیح کرتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اے ایمان لانے والوں تم وہ کہتے کیوں ہو جس پر خود عمل نہیں کرتے۔ اللہ کے نزدیک یہ ایک بڑا گناہ ہے کہ ایک مسلم دوسروں کو وہ کہے جس پر خود عمل نہیں کرتا۔ اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں یوں لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔ ‘
برناباس کی انجیل میں آتا ہے جو حضرت عیسیٰ کی زندگی میں لکھی جانے والی واحد انجیل ہے جسے انہوں نے خود بھی دیکھا اور پسند فرمایاتھا ‘ کہ اللہ تعالیٰ ایک باراُن سے ناراض ہوگئے تھے کیوں کہ انہوں جوش میں ایک حکم الٰہی کو خود عمل کرنے سے پہلے اپنے حواریوں کوکرنے کا حکم دیا تھا۔اللہ کی ناراضی پر وہ سہم گئے تھے اور توبہ کی تھی کہ کبھی ایسا نہیں کریں گے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے دیندار کہلانے والے لوگ آج لوگوں کو ان باتوں کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں جن پر وہ خود عمل نہیں کرتے۔ اللہ کی ناراضگی
کی پرواہ نہ کرنے والے زیادہ تر تبلیغی جماعت کے لوگ ہیں جنھیں انگریزوں نے اس لیے کھڑا کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے جہاد کا خاتمہ کرسکیں۔ بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے قادیانی غلام احمد کو کھڑا کیا تھا۔ کس قدر بے بصیرتی تھی کہ چالیس ہزار انگریز
۔ چالیس کڑوڑ ہندوستانیوں
پر حکومت کرگئے جن میں دس کڑوڑ مسلمان بھی تھے۔ اسی لیے علامہ اقبال ؒ نے فرمایا تھا کہ غلامی دراصل ذہنی ہوتی ہے
بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر کہ جہاں میں فقط مردانِ حُرکی آنکھ ہے بینا
کراچی ۲۳ مارچ ۱۷ محمد جاوید اقبال کلیم

اہل دین و دانش کی ناکامی

متاع دین و دانش لٹ گئی آللہ والوں کی یہ کس کافر ادا کاغمزہ ءِ خوں ریز ہے ساقی
کیا ِاس دنیا کا مال و منال اُس دنیا میں کام آئے گا؟ ہم جانتے ہیں کہ یہ کاغذی نوٹ وہاں کام نہیں آئیں گے۔ پھر بھی ڈالر کی خاطر ہمارے سیاستداں بیورو کریٹس اور جنرلز وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں جسے عرف عام میں غداری کہا جاتا ہے۔ کاش ہمیں آحساس ہوتا کہ ہمارے رہنما ہمیں کاغذی کرنسی کے عیوض فروخت کرچکے ہیں۔ حتیٰ کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی مقروض ہوگئی ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کے بجائے اتوار کو ہوتی ہے۔ اور اسکول اور کالج کے نصاب سے قران کریم ہی نہیں بلکہ علامہ اقبال کا کلام بھی خارج کیا گیا ہے۔ قومی دن پر بھی کلام اقبال سامعہ نواز نہیں ہوتا۔
پاکستانیوں کو نہ صرف میڈیا غلط اور نامناسب ملتا ہے بلکہ ایک بھی متوازن اور دیانت دار اخبار مطالعے کے لیے موجود نہیں ہے۔میں نے یکے بعد دیگرے کئی اخبار اآزمائے ہیں لیکن سبھی حکومت کے کھلے حامی نکلے یا درپردہ حلقہ بگوش۔ حبیب جالب یاد آتے ہین؛
لٹ گئی اس دور میں اہل قلم کی آبرو بک رہے ہیں صحافی بیسواءوں کی جگہ۔
آج کل میں روزنامہ اسلام پڑھ رہا ہوں۔ اس کی خرابی یہ ہے کہ اسے ضمیر فروش مولوی تقی عثمانی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ بھلا جو شخص پیسوں کی خاطر میزان بینک کو شرح سود کی بنیاد پر منافع مقرر کرنے کی اجازت دے اس سے بڑھ کر خبیث اور منافق کون ہوگ اسلام نامی اخبار میں قران اور حدیث کے بجائے
موجود دور کے گمراہ مولویوں کا تذکرہ پایا جاتا ہے اور رب تعالیٰ کی ہدایت کہ صرف مسلمان کے نام سے پہچانے جاءو نظر انداز کردی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں سے ملت اسلامیہ کو بچائے۔

فیس بک مسلمانوں کا کردار ختم کررہی ہے

فیس بک جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کے سبب مسلمانوں کی نفرت کا نشانہ بنی تھی

۔ Face book that caused rage and anger of Muslims by posting blasphemous articles about prophet of Islam, has shown again its hatred of Islam by trying to destroy moral character of Muslims. Ignoring market of 1.75 Billion strong consumer market, FaceBook is following it anti-Islam and anti-Muslim role single mindedly as if it was invented to pursue the agenda of anti-Islam forces.
In face book people are requested for their pictures. Once picture is sent, requestor praises it and tries to come closer, even to people of same sex, thus inciting people for sins, in fact deadly sins. If you stop visiting the page, you get reminders from so called friends, asking if you are angry with them. Thus you are tied to face book. Even aged and the elderly are not spared.
So it is better to get rid of it, before you become an addict! Do it while you can, brothers and sisters!
A Muslim should have the insight in the designs and tactics of enemies. By using propagnda techniques, Jews have set Christians against Muslims, so that fightig each other they destroy each other and the Jews inherit the holy land by default. Their holdy land is a secular state and their
leaders are often criminals who asault ladies around them. How a characterless person lead the believers of One True God?
l
A

اپنی حرکتون سے باز نہیں آئی ہے حال ہی میں اُس نے پھر توہین رسالت مآب کا ارتکاب کیا ہے جس پر باخبر مسلمانوں نے احتجاج کیا ہے۔ایک منافع کا طالب ادارہ کبھی پونے دو ارب مسلمانوں کی مارکیٹ سے دستبردار نہیں ہوسکتا الا یہ کہ اس کامقصد نفع کمانا نہ ہو بلکہ کچھ اور ہو۔
فیس بک بوڑھے اور ریٹائرڈ لوگوں کو اہمیت کا احساس دلاتی ہے اور خواتین خانہ کو گفتگوکا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس لیے اس کے بے شمار خریدار ہیں۔ لیکن انہیں تہذیب و اخلاق سکھانے کے بجائےوہ انہیں فحاشی اور عیاشی کی طرف مائل کررہی ہے۔
طریقہ کار یہ ہے کہ فیس بک پر آپ جسے چاہیے دوست بناسکتے ہیں خواہ وہ مرد ہو یا خواتین۔ مغربی معداشرے میں دوست نہیں ہوتے۔ یا بوائے فرینڈ ہوتے ہیں یا گرل فرینڈز۔ فیس بک میں آپ نہ صرف اپنے "فرینڈ ” سے نہ صرف بات کرسکتے ہیں بلکہ اس کو تصویر بھی مھیج سکتے ہیں بلکہ مانگ بھی سکتے ہیں۔ پھر جب تصویر مل جاتی ہے تو صاحب تصویر کی وجاہت یا حسن و جمال کی تعریف کی جاتی ہے اور پھر ملاقات کا ڈول ڈالا جاتا ہے۔ اس طرح نوجواں لڑکیاں جو جلد رشتہ حاصل کرنا چاہتی ہیں منگیتر کی تلاش میں تباہ ہوجاتی ہیں۔ اور وہ مرد جنھیں عیش و عشرت کی طلب ہوتی ہے رابطہ قائم کرلیتے ہیں اور تعلقات کا آغاز ہوجاتا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ میں دنیا کو ایک امتحان گاہ خیال کرتا ہوں اور عیش و عشرت کا تصوربھی نہیں کرسکتا۔ بالخصوص جب لاکھوں مسلماں قتل کیے جارہے ہوں اور مسلمان بچیوں کی آبرو خطرے میں ہو کوئی کافر ہی ہوگا جو عیش و عشرت میں پڑنے کا سوچےگا۔
لہذا اے مسلمان بھائیو اور بہنو فیس بک کا عملی بائیکات کرو اور خیال رکھو کہ تمہارے بچے اس لعنت سے بچے رہیں۔
وما علینا الاالبلاغ
محمد جاوید اقبال کلیم

کیا میاں نواز شریف اپنے کرپشن کی سزا پائیں گے؟

جاگ اٹھو وقفہ تدبیر  ملے یا نہ ملے                  خواب پھر خواب ہے  تعبیر ملے یا نہ ملے

منعقد جشن سلاسل ہی کرو دیوانو                          گل آئے تو سہی زنجیر ملے یا نہ ملے

ہم تو خون اپنا  چراغوں میں جلاتے جائیں    اس سے کیا  صبح کی تنویر ملے یا نہ ملے

ہم کو منزل پہ پہنچنا ہے  بہر حال اعجاز    

 کوئی رہبر کوئی رہگیر ملے یا نہ ملے

یہ ناممکن  نظر آتا ہے۔ لیکن  حقیقتاً ایسسا نہین ہے۔  میاں نواز شریف کی کرپشن کی گواہی ان کے سانق  آقا یعنی انگری پریس نے بھی دی ہے۔ جو شاید ان کی نااہیل پر  خجل ہے اور ان سے انتقام لینے پر تل گیا ہے۔  اگر اس طرح  ظالم  اور بدعنواں  لوگوں میں پھوٹ نہ پڑے تو مکافات عمل کا امکان  معدوم ہرکر رہ جائے۔ ہز چیز کا ایک وقت مقر ر ہوتا ہے۔  لیکن جب وہ وقت آجات ہے تو

ابدنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں ٹال سکتی۔

سزا تو ہوجائے گی لیکن سوال یہ ہے کہ سزا کیا ہوگی۔ محض نااہلی یا   لوٹے ہوئے مال کی  ریکوری؟  اگر جج حضرات نے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے  نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا  فیصلہ کرہی لیا تو پھر وہ قوی دولت کو واپس لانے میں  تاخیر نہیں کریں گے۔   یہ درست   ہے کہ انگریزی محاورے کے مظابق یہ  اتنا اچھا امکان ہے کہ اسے صحیح نہیں سمجھا جاسکتا ۔ لیکن  قوم چالیس سال سے  بے بسی سے قومی اثاثوں کی لوٹ مار ریکھ رہی ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ کو کب تک اس پر رحم نہ آئےگا۔

ان بطش ربک لشید

اگر قارئیں شرط لگا نا چاہیں تو یہ ناچیز حاضر ہے  بشرطیکہ   رقم  میری  جائیز آمدنی کے  لحاظ سے مناسب ہو!

دجالی دور شروع ہو چکا ہے

کئی مسلم ریسرچرز نے تحقیق کرکے ثابت کیا ہے کہ دجالی عہد شروع ہوچکا ہے۔ اور دجال نے امریکی انتظامیہ سے رابطہ قائم کرلیا ہے ۔ ڈک چینی بش انتظامیہ میں دجال کا نمائندہ تھا۔ اس راز کا انکشاف مشہور محقق جناب اسرارعالم نے اپنی ایک تالیف میں کیا تھا۔ اور غالباً یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ مجھے باوثوق ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ دجال کم از کم تین سال نمودار نہیں ہوگا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہم جیسے پیدائشی مسلمانوں کو موقع عطا فرمایا ہے کہ حق و باطل کے آخری معرکے میں اپنا رول ادا کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ جس فرد میں بھی دین کی ذرا سی

اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ جس انسان میں
رمق رہ گئی ہے اسے جہنم میں جانے سے بچالیں۔ جبکہ شیطان اس کوشش میں ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جہنم کا مستحق بنادے۔ آج لوگوں کی ایک عظیم اکثریت منافق ہے ۔ لوگ برائی ہوتے دیکھتے ہیں لیکن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے کوتاہی کرتے ہیں۔جبھی نہ صرف پاکستان بلکہ تقریباً تمام مسلم ممالک میں امریکہ کے پٹھو حکومت کررہے ہیں۔ اور مسلمان اپنی کثیر تعداد کے باوجود امریکی اور یورپی یلغار کا سامنا کررہے ہیں۔ سعودی عرب اور مصر ہی نہیں بلکہ ملیشیا ‘ پاکستان اور ترکی سبھی اسرائیل سے خوف زدہ ہیں ۔دوسری جانب امریکہ نے روس کو اپنا اسٹریجک پارٹنر بنا لیاہے۔اور دونوں سپر پاور مل کر شام کو تباہ و برباد کررہے ہیں۔
ترکی کو روس نے ایک جہاز گرانے پر دھمکی دی اور اس نے فوراً پسپائی اختیار کرکے اسرائیل سے صلح کرلی۔ اُدھر اسرائیل اور بھارت میں قریبی تعلقات ہیں اور پاکستان میں ایک بزدل اور لالچی قیادت برسراقتدار ہے ۔ جس سے صورتحال کو سنبھالنے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو کتنے زیادہ وسائل سے نوازا ہے اس کا اندازہ بھارت سے تقابل کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ بھارت میں راشن کارڈ جاری ہوتے ہیں اور خاندان میں لوگوں کی تعداد کے مطابق راشن فراہم کیا جاتاہے۔ پاکستان نے پچاس لاکھ سے زیادہ افغانوں ‘ ۳۵ لاکھ بنگالیوں اور لاکھوں برمی اور تاجک باشندوں کو پناہ دی ہے۔ ہمار ی یہ شاداب اور زرخیز سرزمین ان سب کے لیے رزق فراہم کرتی ہے۔ جبکہ بھارت سے مسلمانوں کو نکالا جارہا ہے یا خراب حالت کے سبب وہ خود ملک چھوڑ رہے ہیں۔ اس کے باوجود اس کے یہاں بھکمری اور تنگدستی کی حکمرانی ہے۔ کاش ہم اپنے کریم رب کا عملا شکر ادا کرتے تو ہمارے حالات کہیں بہتر ہوتے۔
دنیا پر جس استحصالی نظام کی حکمرانی ہے اس کے سبب پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد فاقہ کشی کا شکار ہے۔ میں یہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک ارشاد یاد دلانا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ جس بستی میں کوئی بھوکا سوجائے وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ سے محروم ہوجاتی ہے۔ آج ہمارے ملک میں جو ظلم و تشدد کی فراوانی ہے اس کا سبب مفلسوں اور غریبوں کا دو وقت کی روٹی سے محروم رہنا ہے۔ بھائیو اور بہنو خدا کے لیے ہوش میں آؤ اور عملاً اللہ کا شکر ادا کرو۔ دین کا تقاضہ خیرخواہی ہے۔اس لیئے اپنے عزیزوں اور پڑوسیوں کو حالات سے آگاہ کرو۔ اس دور میں امر بالمعرو ف اور نہی عن المنکر پر لازماً عمل کرنا چاہیئے ورنہ رب تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے۔ ’ ان بطش ربک لشدید ‘
اللہ تعالیٰ نے ہمارے بچوں کو نہایت ذہین و باصلاحیت بنا یا ہے ۔ اگر ہم انھیں حالات حاضر ہ سے باخبر رکھیں تو وہ ملک و ملت کے لیے ایک عظیم اثاثہ ثابت ہوں گے اور ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنیں گے۔ اچھی اولاد اللہ کی نعمت ہے۔ اس پر جس قدر شکر کیا جائے کم ہے۔
کراچی ۴ فروری ۲۰۱۷ محمد جاوید اقبال
Back to Conversion Tool

Urdu Home