کیا ہم واقعی آزاد ہیں

کہتے ہیں کہ خوبصورتی دیکھنے والی آنکھ میں ہوتی ہے۔ جو دانشور سمجھتے ہیں پاکستان ابھی آزاد نہیں ہوا ان کی خاصی تعداد فیض احمد فیض سے متاثرہے:

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر

یہ وہ سحر تو نہیں کہ جسکی آرزو لے کر

چلے تھے یار کہ مل جائےگی کہیں نہ کہیں

ابھی طلمت شب میں کمی نہیں آئی

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔

جوش بھی کمیونزم سے متاثر تھے۔ لیکن وہ پُر امید تھے۔

لیلائے آب رنگ کا ڈیرہ قریب ہے        تارے لرز رہے ہیں سویرا قریب ہے

لیکن آزادی کے متعلق حرف آخر اقبال کا یہ شعر حرفِ آخر ہے:

رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہے          یہ نکلتے ہوئے سورج کی شفق تابی ہے

سو آزادی کا سورج طلوع ہوکر رہا۔ اور ہماری مرضی کے مطابق۔ ایک مسلم ملک جسے یہ ثابت کرنا تھا کہ اسلام آج بھی قابل عمل ہے اور قوموں کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ اللہ نے اس کے لیے ہمیں وافر وسائل عطا فرمائے ہیں۔ اور ایک ذہین و فہیم جواں نسل جو اپنی دنیا آپ پیدا کرنا جانتی ہے اور چاہتی ہے۔ اس کے لیے بس ہمیں انگریز کی تربیت یافتہ بیوروکریسی کی گرفت سے قوم کو نکالنا ہے۔ جو divide and rule

 پر یقین رکھتی ہے۔

ایر مارشل اصغر خان ایک دیانتدار ایر چیف تھے۔ اسی لیے وہ کبھی اقتدار میں نہیں آسکے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے بعد بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئے بھی تو وہ بیوروکریسی کے گرفت میں رہے۔  پیپلز پارٹی جو ایک قومی پارٹی تھی سندھی پارٹی بن کر رہ گئی۔ پھر اسلام کا نام لے کر ضیاءالحق نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ جس کے ہاتھ فلسطینی عوام کے خون سے رنگے ہوئے تھے اور اُسی کے انعام کے طور پر اسے  پاکستان کی حکومت بخشی گئی۔ نواز شریف جو شکایت کرتا پھِر رہا ہے کہ اُس کی کسی حکومت کو ٹرم پورا کرنا نصیب نہ ہوسکا ٗ  کُھل کر کیوں نہیں بتاتا کہ امریکہ کی مداخلت کے سبب نہ سول حکومتیں معیاد پوری کرسکیں اور نہ فوجی۔ خود امریکہ کے رازوں سے پردہ ہٹاکر بتایا گیا ہے کہ لیاقت علی خان کو امریکہ کے صدر تھامسن کے حکم پر قتل کیا گیا کیوں کہ انہوں نے ایران پر دبائو ڈالنے سے انکار کردیا تھا۔ اسی طرح ایوب خان کا زوال بھی امریکی اشارے پر آیا۔ ہماری نئی نسل کے لیے چیلنج ہے کہ وہ دولت کی پرستش ترک کرکے اللہ تعالیٰ کی حقیقی پرستش اختیار کرے اور چین و امریکہ پر بھروسہ ترک کرکے  صرف اللہ ہی پر بھروسہ رکھے۔ رب تعالٰی نے انتہائی کرم کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر

اللہ کے سوا کوئی تمہارا دوست ہے نہ مددگار۔

کراچی  13 اگست 2017

محمد جاوید اقبال کلیم

یہ کم ہمتی و بزدلی

نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا
میں ہلاک جادوءے سامری تو قتیل شیوہ آذری
منافقت اس قدر عام ہے کہ مغرب سب کچھ جان کربھی کچھ نہیں جانتا اور مشرق مغرب سے اس قدر مرعوب و متاثر ہے کہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ
اس میں مرد بھی بستے ہیں۔ مزے کی بات ہے جس مغربی شخص نے پنامہ لیکس کا راز عام کیا وہ کوئی مرد نہیں بلکہ ایک ہیجڑا ہے۔ پاکستان میں منافقت اس قدر عام ہے کہ چیف جسٹس ہو یا چیف آف آرمی اسٹاف دولتِ دنیا کی خاطر اپنے مقام اور مرتبے سے گرجاتے ہیں۔ انھیں نہ خدا کے غضب کا خوف رہا ہے اور نہ رسول کریم صلی اللہ کو منھ دکھانےکی فکر۔
میں نے پندرہ برس لیبر کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک لیبر کے حقوق کے مقدمات لڑے ہیں۔ میں نے بعض مسلمان ججوں کی لالچ اور بے ایمانی دیکھی ہےاور ایک عیسائی جج ڈینیئل کی دیانت داری دیکھی ہے۔
جیسے ہے نواز شریف کی جانب سے قطر کے شہزادے سے رقم لینے کا اعتراف سامنے آیا تھا۔ اسے فورا نااہل قرار دے کر جیل بھیج دینا چاہیئے تھا۔ کیوں کہ قطری شہزادے نے دولت پاکستان کی حکومت کو دی تھی نہ کہ نواز شریعف کے ذاتی اکاءونٹ کے لیے۔ اور اگر یہ رقم نواز شریف کو ذاتی طور پر دی گئی تھی تو یقیناً یہ ایک رشوت تھی جس کے سبب اسے فورا نااہل قرار دے کر گرفتار کیا جانا چاہیئے تھا۔ مگر پانچ سینیئر اور مقتدر جج یہ فیصلہ نہ کرسکے۔ کسی کو میاں نواز شریف سے دوستی یاد آگئی اور کسی کو اس کی دولت نے باز رکھا۔ عمران خان کے وکلاء کو برقت یہ بات نہیں سوجھی۔ اس طرح وہ مقدمہ جیتنے کا ایک نادر مقوقع گنوا بیٹھے۔
سوچ تو دل روتا ہے کہ ان کے ہیجڑے ہمارے مردوں سے زیادہ حوصلہ رکھتے ہیں۔ اور ہمارے اہل اقتدار میں خواہ وہ سیاستداں ہوں یا جج یا فوجی جنرل ایک مرد کی جراءت و ہمت نہیں ہے۔ حالانکہ اقبال بتا گئے ہیں کہ
آئین جوان مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔
کراچی 11 جون 2017 محمد جاوید اقبال کلیم

بندہ ہے کوچہ گرد ابھی خواجہ بلند بام آبھی

کل بینک سے رقم نکلوا کر لوٹ رہا تھا۔ وہیں ایک فری ریستوراں بھی ہے جہاں غریبوں کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ سڑک زیر تعمیر تھی اور وہاں مٹی کا ایک ڈھیر جمع تھا۔ میں نے دیکھا پانچ چھے سال کا ایک بچہ دوڑتا ہوا آتا اورمٹی پر کود جاتا۔ کبھی کبھی وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتا۔ مجھے وہ بچہ اچھا لگا میں نے پوچھا بیٹے آپ نے ناشتہ کرلیا۔ نہیں اپنی باری کا انتظار کررہا ہوں۔ اس نے ریستوراں کی جانب اشارہ کیا جہاں غریبوں کو مفت کھانا دیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ایک وقت صرف دو لوگ آئیں۔۔ مجھے اس کی معصومیت اور سرخوشی اچھی لگی۔ میں نے سوچا جب تک انقلاب نہیں آتا ہمارے بچے اسی طرح رُلتے رہیں گے۔
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زند گی روح امم کی حیات کش مکش انقلاب
اس بچے کو تو میں نے پراٹھا دلادیا ۔ وہ اسی پر خوش ہوگیا۔ اور یہ بھی نہ سوچاوہ کس سے کھاـءوں گا؟ لیکن میں سوچنے لگا کہ قومی وساءل کا ایک تہائی تو سود کی ادائیگی میں لگ جاتا ہے۔ نصف فوج کھاجاتی ہے۔ باقی کرپٹ حکمراں کھاجاتے ہیں۔ عوام بے چارے کیا کریں؟پاکستان کے قیام کو ستر برس ہوچکے ہیں۔ پھر بھی ہمارے عوام ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔
بندہ ہے کوچہ گرد ابھی خواجہ ہے بلندبام ابھی عشق گرہ کشا کا فیض نہیں ہے عام ابھی

صبروضبط کی بھی حدہوتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بستی میں لوگ غربت کے سبب بھوکے سوجائیں اس پرسے اللہ کی حفاظت ہٹالی جاتی ہے۔ اللہ نے کچھ لوگوں کو زیادہ رزق اس لیے دیا ہے کہ وہ ان کی آزماءش کرنا چاہتا ہے کہ وہ اس میں سے غرباء و محروم افراد کا حق نکالتے ہیں یا نہیں۔ کم ہی لوگ اس ٓآزمءش پر پورے اترتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ نے ضمانت دی ہے کہ صدقہ کا کم ازکم دس گنا دنیا میں واپس کیا جاتا ہے اور ٓآخرت میں کم از کم سترگنا اس کا ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ افسوس مولوی صدقہ خیرات کی طرف کم ہی لوگوں کی توجہ مبذول کراتے ہیں۔ زیادہ زور رسومات عبادات پر ہے۔ حقوق العباد کی بات کوئی نہیں کرتا۔ کیوںکہ یہ علم اگر عام ہوجائے تو عوام کبھی کرپٹ حکومتیں برداشت نہ کریں۔ یہاں تو طارق جمیل فضاءل اعمال کے نام پر ضعیف حدیثیں سناکر لوگوں کا وقت ضاءع کرتا رہتا ہے۔ اور حکومت کی خرابی کو عوام کے اعمال کی خرابی سبب قرار دیتا ہے۔ اس ضمن میں حکومت اسے مفت حج اور دس لاکھ روپئے کی رشوت دیتی ہے۔ ایسے ہی بد نہاد مولوی قوم کی بدنصیبی کا باعث بنے ہوئے ہیں

Short sightedness of Ummate Muslimah

امت کی بے بصیرتی
متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی یہ کس کافرادا کاغمزہ خون ریز ہے ساقی
بالعین جیسا اقبال کی چشم پیش بیں نے دیکھاتھا عالم اسلام کے رہنما مل کر کفرضلالت کے سرغنہ امریکہ کو اپنی دولت اوروسائل سے مالامال کررہے ہیں۔ سعودی عرب اربوں ڈالر ضائع کرکے امریکہ کا فرسودہ اور بے کار اسلحہ خریدرہا ہے اور ایران امریکی اشارے پر سعودی عرب کے لیے خطرہ بن گیا ہے ۔ اس کی منافقت اس حقیقت سے واضح ہے کہ وہ شام میں علویوں کی کافر حکومت کی مدد کے لیے فوجی اور مادی مدد کررہا ہے اور روس کی بے دین و کافر حکومت اس کی مدد میں مظلوم مسلمانوں پر بم برسارہی ہے۔ اللہ ہی ہے جو شام کے ولی صفت مسلمانوں کی مددفرمائے۔کیوں کہ سعودیوں کا توکل اللہ پر نہیں ہے وہ اپنی حفاظت کے لیے امریکہ کو رشوت دے رہا ہے۔ جبکہ ایران لبیک یا مہدی کہہ کر یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ امام مہدی کی نمائندگی کررہاہے۔حالانکہ شام کے ولی صفت مسلمانوں پرنہ صرف وہ بمباری کررہا ہے بلکہ روس سے بھی مسلمانوں پر بم برسارہا ہے جن کا واحد قصور صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کی وحدانیت میں یقین رکھتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشار الاسد کے قبیلے کا نام تک بتادیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کرے گا۔ اللہ کا احسان ہے کہ ہم اندھیروں میں نہیں ہیں بلکہ واضح طور پر بُرے اور بھلے کو پہچان رہے ہیں۔اقبالؒ نے صاف صاف بتادیا ہے:
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار وہی مہدی وہی آخر زمانی
یعنی ہمیں حضرت امام مہدی کے انتظار میں نہیں بیٹھے رہنا چاہیئے بلکہ جو بن پڑے مظلوم مسلمانوں کے لیے کرنا چاہیئے۔ خواہ وہ دعا یا معمولی مالی امداد ہی کیوں نہ ہو۔ اس آخری دور میں صبر ہی ہمارا طرزعمل ہونا چاہیئے کیوں کہ دنیا کی کوئی طاقت رب تعالیٰ کو شکست نہیں دے سکتی۔ اللہ رب العزت نے دوسری ہی سورت میں صاف صاف بتادیا ہے:
وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر۔
(اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے نہ مددگار)
کرنے کا اصل کام تو یہ ہوتا کہ عالم اسلام متحد ہوکر عالم کفر کے سامنے ڈٹ جاتا جیسے افغان اور شامی مسلمان ڈٹ گئے۔ لیکن قیادت کا فقدان اس لائحہ عمل کی راہ میں مزاحم ہے ۔ لہذا ہم صبرسے کام لے کرہی اس مصیبت کو ٹال سکتے ہیں۔ البتہ مسلمان قوم کو آگہی فراہم کرنا ہمارا فریضہ ہونا چاہیئے۔اگر ہم امت مسلمہ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا قائل کرسکے تو ہم زوال امت کو کسی نہ کسی حد تک ٹال سکتے ہیں۔ البتہ اگر ہم نے قوم کو تبلیغی نصاب کی رسوماتِ عبادت پر چھوڑدیا توامت مسلمہ کے سنبھلنے کا کوئی چانس نہ رہ جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ انگریز نے اپنے دور میں تبلیغی جماعت اورقادیانی جماعت کی داغ بیل رکھی تاکہ مسلمان بھی جہاد کا خیال بھی دل میں نہ لاسکیں اور ہندوستان پر ان کی حکومت ہمیشہ قائم رکھی جاسکے۔ وہ تو اللہ بھلا کرے علامہ اقبال کا جن کی کوششوں سے دیوبندی منافقت اور ابوالکلام کی گاندھی کے ساتھ مل کرکی گئی سازشوں کا راز بے نقاب ہوا اور قیامِ پاکستان ممکن ہوا۔

خضر راہ

علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ قران کریم کے بہترین مفسرتھے۔ انہوں نے اپنی بصیرت سے سورہ الکہف کے معنی سمجھ لیے تھے۔ اس لیے ان کی نظم خضر راہ سے اقتباس پیش کررہا ہوں۔ غور کرنے سے آخری دور کے پوشیدہ راز کھلیں گے۔

اے تری چشمِ جہاں بيں پر وہ طوفاں آشکار
جن کے ہنگامے ابھی دريا ميں سوتے ہيں خموش

‘کشتئ مسکين‘ و ‘جانِ پاک’ و ‘ديوارِ يتيم‘،
علمِ موسیٰ بھی ہے تيرے سامنے حيرت فروش—(1)

چھوڑ کر آبادياں رہتا ہے تو صحرا نورد
زندگی تيری ہے بے روز و شب و فردا دوش

زندگی کا راز کيا ہے، سلطنت کيا چيز ہے
اور يہ سرمايہ و محنت ميں ہے کيسا خروش

ہو رہا ہے ايشيا کا خرقہءِ ديرينہ چاک
نوجواں اقوامِ نو دولت کے ہيں پيرايہ پوش

گرچہ اسکندر رہا محرومِ آبِ زندگی
فطرتِ اسکندری اب تک ہے گرمِ نائونوش

بيچتا ہے ہاشمی ناموسِ دينِ مصطفیٰ
خاک و خوں ميں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش—(2)

آگ ہے، اولادِ ابراہيم ہے، نمرود ہے
کيا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے!

(1)—سورہ الکھف کی آیات 60-82 کا خوب خلاصہ کیا ہے۔(دیکھئے :الکھف ربط)

Real Reason for Downfall of Ummah

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ دین کی فکر کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے نوازتا ہے ۔ قران ایک زندہ کتاب ہے جو ذہن میں اٹھنے والے ہرسوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ گذژستہ چند دنوں سے میں متفکر تھا کہ دشمنان دیں ہمارے خلاف زبانی پروپیگنڈہ بھی کررہے ہیں اور عملی جنگی اقدام بھی۔ لیکن ہماری طرف سے کوئی جواب نہیں دیا جاتا یا نیم دلی سے زبانی جواب دے کے سمجھ لیا جاتا ہے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کرلیا ہے۔ پاکستان کی آزادی کو انسٹھ برس ہونے کو آئے لیکن ابھی تک ہم نہ شرعی قانوں نافذ کرسکے ہیں اور نہ ملک میں اسلامی نظام انصاف قائم کرسکے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہم دنیا کے لیئے ایک بے وقعت قوم بن کررہ گئے ہیں۔ امریکہ کے حکم پر ہم اپنے ہی بھائیوں سے لڑتے ہیں اور دشمن کی عملی کاروائی کے جواب میں ہم زبانی بیان کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے وقار کا تحفظ کرلیا۔
میں پاکستانی مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر غور کررہا تھا۔ اسی اثنا میں مجھے ایک مسجد میں نماز عشاء پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ میں یہ سن کر حیران رہ گیا کہ قران کریم کی آیات جو امام تلاوت کررہے تھے۔ میرے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کی مکمل اور کافی جواب ہیں:
یہ سورہ صف کی آیات تھیں جنہوں نے میری آنکھیں کھول دیں۔ذرا غور سے سنیں رب تعالیٰ کیا فرماتا ہے۔
ہمارا مسئلہ اپنی ملت کے زوال کا نہ صرف ثواب جاننا ہے بلکہ ان کا تدارک بھی کرنا ہے۔ کیوں کہ اس کے لیے فرشتے نہیں آئیں گے۔
اس فکر میں کئی دنوں سے گم ‘ میں ایک ایسی مسجد میں جاپہنچا جہاں امام سورہ صف کی تلاوت کررہا تھا۔ سن کر میں فورا سمجھ گیا کہ یہ میری تلاش کا جواب ہے۔ترجمہ یہ ہے:
’’ اللہ کی تسبیح کرتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اے ایمان لانے والوں تم وہ کہتے کیوں ہو جس پر خود عمل نہیں کرتے۔ اللہ کے نزدیک یہ ایک بڑا گناہ ہے کہ ایک مسلم دوسروں کو وہ کہے جس پر خود عمل نہیں کرتا۔ اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں یوں لڑتے ہیں جیسے وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔ ‘
برناباس کی انجیل میں آتا ہے جو حضرت عیسیٰ کی زندگی میں لکھی جانے والی واحد انجیل ہے جسے انہوں نے خود بھی دیکھا اور پسند فرمایاتھا ‘ کہ اللہ تعالیٰ ایک باراُن سے ناراض ہوگئے تھے کیوں کہ انہوں جوش میں ایک حکم الٰہی کو خود عمل کرنے سے پہلے اپنے حواریوں کوکرنے کا حکم دیا تھا۔اللہ کی ناراضی پر وہ سہم گئے تھے اور توبہ کی تھی کہ کبھی ایسا نہیں کریں گے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے دیندار کہلانے والے لوگ آج لوگوں کو ان باتوں کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں جن پر وہ خود عمل نہیں کرتے۔ اللہ کی ناراضگی
کی پرواہ نہ کرنے والے زیادہ تر تبلیغی جماعت کے لوگ ہیں جنھیں انگریزوں نے اس لیے کھڑا کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے جہاد کا خاتمہ کرسکیں۔ بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے قادیانی غلام احمد کو کھڑا کیا تھا۔ کس قدر بے بصیرتی تھی کہ چالیس ہزار انگریز
۔ چالیس کڑوڑ ہندوستانیوں
پر حکومت کرگئے جن میں دس کڑوڑ مسلمان بھی تھے۔ اسی لیے علامہ اقبال ؒ نے فرمایا تھا کہ غلامی دراصل ذہنی ہوتی ہے
بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر کہ جہاں میں فقط مردانِ حُرکی آنکھ ہے بینا
کراچی ۲۳ مارچ ۱۷ محمد جاوید اقبال کلیم

فیس بک مسلمانوں کا کردار ختم کررہی ہے

فیس بک جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کے سبب مسلمانوں کی نفرت کا نشانہ بنی تھی

۔ Face book that caused rage and anger of Muslims by posting blasphemous articles about prophet of Islam, has shown again its hatred of Islam by trying to destroy moral character of Muslims. Ignoring market of 1.75 Billion strong consumer market, FaceBook is following it anti-Islam and anti-Muslim role single mindedly as if it was invented to pursue the agenda of anti-Islam forces.
In face book people are requested for their pictures. Once picture is sent, requestor praises it and tries to come closer, even to people of same sex, thus inciting people for sins, in fact deadly sins. If you stop visiting the page, you get reminders from so called friends, asking if you are angry with them. Thus you are tied to face book. Even aged and the elderly are not spared.
So it is better to get rid of it, before you become an addict! Do it while you can, brothers and sisters!
A Muslim should have the insight in the designs and tactics of enemies. By using propagnda techniques, Jews have set Christians against Muslims, so that fightig each other they destroy each other and the Jews inherit the holy land by default. Their holdy land is a secular state and their
leaders are often criminals who asault ladies around them. How a characterless person lead the believers of One True God?
l
A

اپنی حرکتون سے باز نہیں آئی ہے حال ہی میں اُس نے پھر توہین رسالت مآب کا ارتکاب کیا ہے جس پر باخبر مسلمانوں نے احتجاج کیا ہے۔ایک منافع کا طالب ادارہ کبھی پونے دو ارب مسلمانوں کی مارکیٹ سے دستبردار نہیں ہوسکتا الا یہ کہ اس کامقصد نفع کمانا نہ ہو بلکہ کچھ اور ہو۔
فیس بک بوڑھے اور ریٹائرڈ لوگوں کو اہمیت کا احساس دلاتی ہے اور خواتین خانہ کو گفتگوکا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس لیے اس کے بے شمار خریدار ہیں۔ لیکن انہیں تہذیب و اخلاق سکھانے کے بجائےوہ انہیں فحاشی اور عیاشی کی طرف مائل کررہی ہے۔
طریقہ کار یہ ہے کہ فیس بک پر آپ جسے چاہیے دوست بناسکتے ہیں خواہ وہ مرد ہو یا خواتین۔ مغربی معداشرے میں دوست نہیں ہوتے۔ یا بوائے فرینڈ ہوتے ہیں یا گرل فرینڈز۔ فیس بک میں آپ نہ صرف اپنے "فرینڈ ” سے نہ صرف بات کرسکتے ہیں بلکہ اس کو تصویر بھی مھیج سکتے ہیں بلکہ مانگ بھی سکتے ہیں۔ پھر جب تصویر مل جاتی ہے تو صاحب تصویر کی وجاہت یا حسن و جمال کی تعریف کی جاتی ہے اور پھر ملاقات کا ڈول ڈالا جاتا ہے۔ اس طرح نوجواں لڑکیاں جو جلد رشتہ حاصل کرنا چاہتی ہیں منگیتر کی تلاش میں تباہ ہوجاتی ہیں۔ اور وہ مرد جنھیں عیش و عشرت کی طلب ہوتی ہے رابطہ قائم کرلیتے ہیں اور تعلقات کا آغاز ہوجاتا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ میں دنیا کو ایک امتحان گاہ خیال کرتا ہوں اور عیش و عشرت کا تصوربھی نہیں کرسکتا۔ بالخصوص جب لاکھوں مسلماں قتل کیے جارہے ہوں اور مسلمان بچیوں کی آبرو خطرے میں ہو کوئی کافر ہی ہوگا جو عیش و عشرت میں پڑنے کا سوچےگا۔
لہذا اے مسلمان بھائیو اور بہنو فیس بک کا عملی بائیکات کرو اور خیال رکھو کہ تمہارے بچے اس لعنت سے بچے رہیں۔
وما علینا الاالبلاغ
محمد جاوید اقبال کلیم