مسلمانو ! محرم کو سمجھو

انحہ کربلا کو 1400 سال ہوگئے۔ ابھی تک امت اس صدمے کے اثر سے باہر نہیں آسکی۔ اس سے بڑا سانحہ وفاتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ہے۔ لیکن ایک آدھ دن یاد کرنے کے سوا امت کچھ نہیں کرتی  جبکہ کربلا کے لیے کم از کم دس دن اور زیادہ سے زیادہ چالیس دن ماتم کیا جاتا ہے۔ گویا امام حسین قتل نہ کیے جاتے تو ابھی تک زندہ ہوتے۔ خود فریبی سی خود فریبی ہے۔                                                                                                                                  

قران صاف صاف فرماتا ہے : جو کچھ اس (زمین ) پر ہے اسے فنا ہوجانا ہے۔ صرف تیرے رب کاچہرہ باقی رہ جائے گا۔اس قانون کے تحت ہر نیک و بد مرجاتا ہے یا اسے قتل کردیا جاتا ہے۔ سینکڑوں بیماریان دریافت ہوچکی ہیں اور نہ جانے کتنی نئی دریافت ہونا باقی ہیں؟پھر کسی کی شہادت پر ماتم کیسا؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے جو جلیل القدر رسول گذرے وہ بھی وفات پاگئے یا شہید کردیئے گئے۔ لہذا یہ توقع ہی غلط تھی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یا ان کی آلِ مبارک ہمیشہ روئے زمین پر رونق افروز رہے گی۔ ہمیشہ ہماری دلداری اور حوصلہ افزائی کے لیے رب تعالیٰ کی ذاتِ گرامی موجود ہے۔ رب کا فرمان ہے: اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی ہے اور نہ مددگار!  پس جب وہ عظیم ہستی خود ہماری دلدہی اور حوصلہ افزائی کے لیے موجود ہے تو ہمیں کیا غم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ کے  دوستوں کو نہ کوئی فکر ہے نہ غم!

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک تمام مسلمانوں کے لیے نمونہ ہے۔ آپ کے فرزند ابراہیم رضی اللہ عنہ وفات پاگئے اور تین بیٹیاں قتل ہوئیں یا وفات پاگءیں۔ لیکن آپ نے آنسو تو بہائے لیکن کبھی ماتم نہیں کیا۔

آپ اپنے صحابہ سے بہت بلند وبالا تھے۔ حضرت ابوبکر رضٰی اللہ عنہ اکیلے ہجرت کرنے والے تھے۔ حضور نے انہیں روکا اور اپنے ساتھ مدینہ لے گئے جس کے سبب انھیں افضل البشر کا خطاب ملا۔ حضرت عمر کہتے تھے کہ ابو بکر ان کے ساری زندگی کے اعمال لے لیں اور اس کے بدلے وہ چند دن دییدیں جو حضور کی معیت میں انھین مدینہ کے سفر میں نصیب ہوئے۔ صحابہ کا اللہ کے رازق ہونے پر یقین نہ تھا۔ اس لیے سورہ جمعہ میں آتا ہے کہ وہ  حضور کو منبر پر کھڑا چھوڑ کر بازار چلے گئے تھے کیوں کہ غذا کی قلت تھی اور خوراک لے کر ایک قافلہ مدینہ آیا تھا۔

جیسا کہ علامہ اقبال نے بتایا ہے جو دین آپ لائے ہیں اس کا واحد مقصد جبرو استحصال کا خاتمہ ہے:

تاکسے نہ باشد محتاجِ کس             غایتِ دینِ مبیں ایں است و بس

حضور نہ صرف عام دنوں میں خود بھوکا رہ کر اوروں کو کھلاتے بلکہ جنگ کے دوران بھی آپ کے ایثار کا وہی عالم ہوتا۔ صحابہ ایک پتھر باندھ کر جہاد کرتے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دو پتھر باندھے ہوتے۔ آپ کو کفار کے ہاتھوں نہ صرف پتھر کھانے پڑے بلکہ آپ کو گالیاں بھی دی گءیں یہاں تک کہ خون آپ کے سر سے بہ کر ایڑیوں تک  

جا پہنچا۔ حضور ہمارے لیے کتنا اعلیٰ اسوہ حسنہ چھوڑ گئے ہیں۔ کاش ہماری پوری زندگی آپ کے اتباع میں صرف

ہو سکے

محمد جاوید اقبال

Advertisements

رمضان المبارک پر حضور نبی کریم صلی اللہ علی وسلم کا وعظ

Alhamduli’Allahi Rabbil-‘Aalameen
wa-Salaatu wa-Salaamu ‘alaa Ashrafil-Anbiyaa-e-wal-Mursaleen~ `Amma `Baa`d.

‘Assalaamu `Alaykum wa Rahmatullaahi wa Barakaatuhu’

*Virtues  Of  The  Month  Of  Ramadhaan*

*PROPHET*~[Sallallaahu `Alaihi wa Sallam]~ 
  First   Khutbah… !

‘O Muslims… Fear Allaah and Obey Him !~
 
I give you glad tidings as the month of ‘Ramadaan’
 is approaching…
 This is the month in which the ‘Qur’aan’ was revealed
as a guidance for mankind, as well as a clarification and differentiation between truth and falsehood !

During this month, the Gates of Mercy are opened 
and the gates of hell are sealed.

Satan and all other Jinn are chained during this blessed month…Rewards for good deeds performed in this month 
are multiplied, sins forgiven and supplications responded 
to and answered.
It is the month of Perseverance, Mercy, 
Compassion and Charity.

Salmaan Al-Faarisi ~ 
[may Allaah be pleased with him] reported that…

 Prophet ~[sallallaahu `Alaihi wa sallam]
gave a speech on the last day of ‘Sha’baan’, and said…
"O people !
You are being approached by a great and blessed month.
 A month which contains a Night that is better than
 One Thousand  [1000]  months !
 
Allaah made fasting within it an obligation,
and made praying on that night an optional 
act of worship.
 
he who performs any righteous voluntary act within it, 
will be rewarded like one who doesan obligatory act at any time other than during ‘Ramadaan’…{!}
 
‘he who performs an obligatory act of worship within it will 
be rewarded like he who performs Seventy~[70] acts of worship at any time outside this month !
 [‘Alhamdullilah’ !]
 

It is the month of Perseverance -and 
perseverance is rewarded with ‘Jannah’~{Paradise}!
 
It is the month of Compassion,
in which the sustenance of a believer increases !
 
"he who feeds a fasting person within this month has his sins forgiven and he will be protected and released from the hell fire… he also gets the reward of that person’s fasting without decreasing the reward of the fasting person.”

Then the companions~
[may Allaah be pleased with them] said…

‘O messenger of Allaah ! Not all of us can find the extra food needed to feed another fasting person’.

So the Prophet [Sallallaahu ‘Alaihi wa Sallam] responded:
 
‘Allaah will give you the reward of feeding a fasting person even if you were to give him just a sip of milk,
…a date, or a sip of water…{!}

He who feeds a fasting person until he is full,
Allaah will make him drink out of my river, a sip of which will never allow him to be thirsty until he enters ‘Jannah’…!’

Then he continued…
‘This is the month the beginning of which is Mercy,
the middle part is Forgiveness…
and the last part of it is Release from Hellfire.’

(Source: Al-Bayhaqi).

"So, pay attention, may Allaah be merciful to you all”
 ‘Pay attention !
O believers, to the speech of the Prophet
{Sallallaahu `Alaihi wa Sallam }

in which he gave glad tidings of the month of ‘Ramadaan’ to his companions and informed them of its virtues and how the reward of righteous deeds performed therein is multiplied.
Indeed, it is a great and blessed month…!
 
The Prophet [Sallallaahu `Alaihi wa Sallam ] said..

referring to the month of Ramadaan~

"Never has a better month arrived
for the believers and never has a worse month come
to pass for the hypocrites.”

مظلومئ ء نسواں

علامہ اقبال نے کہاتھا: میں بھی ہوں مظلومئ ء نسوان پہ غمناک بہت

نہیں ممکن مگر اس عقدہ ء مشکل کی کشود

اس بات کو سو سال سے زیادہ ہوگئے لیکن حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ گھر میں جو ماسی کام کرتی ہے وہ میری بیوی سے اپنے شوہر کی شکایت کرتی  ہے جب اس کا شوہر مارپیٹ کرتا ہے۔ حالانکہ وہ گھر کا خرچ چلانے میں اس کی مدد بھی کرتی ہے۔ چلیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فیمیلی کے ساتھ سلوک پر کوئی رول ماڈل نہیں دیا۔ مگر  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ مسلمانوں کو عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا  چاہیئے۔ لیکن ملا یہ مسلمانوں کو کبھی نہیں بتاتے۔ اس لیے کہ ان کی نظر معاشرے پر نہیں ہے بلکہ اپنے مفادات پر ہے۔ مسلمان عورت آج ملک بھر میں مظلوم ہے۔ سندھ پنجاب اور سرحد کے متعلق میں جانتا ہوں۔ مارپیٹ عورتوں سے ملازمت اور کھیتوں میں کام کرانا اور غیرت کے نام پہ قتل کرنا عورتوں کے اسلامی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ غیرت کے نام پر قتل بھی ظلم ہے۔  زیادہ سے زیادہ طلاق دی جاسکتی ہے۔ عورتیں اپنی جان کی خود مالک ہیں ان کی جان لینے کا حق نہ ان کے والدین کو ہے  نہ ان کے شوہروں کو۔

حضرت  عیسیٰ علیہ السلام  اپنے پیرو کاروں  کے لیے کوئی  رول ماڈل نہ چھوڑ سکے۔ کیونکہ انھیں شادی کی مہلت ہی نہ مل سکی۔ لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم  نے بیویوں سے حسن سلوک کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ اور فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کا سلوک اپنی بیوی سے سب سے اچھا ہو۔  آپ روزانہ عص کے بعد کا وقت بیویوں کے لیے وقف کرتے اور ہر شب باری باری  ایک بیوی کے ساتھ گذارتے ۔ لیکن آج ہمارے مسلمان بھائی بیویوں پر ظلم س ستم سے باز نہیں آتے۔ حالانکہ حضرت علی نے فرمایا کہ بیوی پر ہاتھ اٹھانا کمینہ پن ہے۔

ایک بار میں نے شہر کے حالات کی بہتری کی دعا کی۔ مجھے جواب ملا  لوگوں سے اپنا گھر سنبھالا نہیں جاتا اور شہر کی فکر میں پریشان ہوتے رہتے ہیں۔۔ ان دنوں میرے بیوی سے تعلقات کچھ کشیدہ تھے۔ میں شسدر رہ گیا۔

نہ جانے ہم دنیا کو سنوارنے کے قابل کب ہو سکیں گے ابھی تک تو ہم سے اپنے گھر ہی سنبھالے جا سکے ہیں۔

طارق جمیل کا مجرم ٹولہ

ہر مسلمان جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تیرہ برس سخت ظلم سہے ٗ مصیبتیں جھیلیں لیکن تلوار نہیں اٹھائی۔ یہاں تک کہ تین سال کے لیے آپ کو شعب بن ابی طالب میں ؐحصور کردیا گئا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے عزیزوں کو سخت بھوک اور پیاس کا سامنا کرنا پڑا۔ آخر آپ کو ہجرت کی اجازت مل گئی اور مدینہ شریف میں آپ کے جا نثاروں کی ایک جماعت پیدا ہوگئی۔ لیکن وہیں یہودی بھی آپ کی آمد کے منتظر تھےتاکہ آپ کو قتل کرسکیں۔ آپ سے قبل انہوں نے ہزاروں انبیاء کو قتل کیا تھا۔ جن میں حضرت زکریا علیہ السلام ٗاور حضرت یحیٰ علیہ السلام شامل ہیں۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی لیکن اللہ نے انہیں بچا کر چوتھے آسمان پر پہنچادیا۔اس لیے لازم تھا کہ حضور رحمت اللعالمین کو تلوار اٹھانے کی اجازت دی جاتی اور مسلم جانبازوں کی ہر قدم پر مدد کی جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضور کے ذریعے خلافت کو قائم فرمایا تاکہ تیک اور دیانتدار حکمراں ملت کو سیددھے راستے پر چلائیں۔ اس کے علاوہ سلف صالحین کے جتنے علماء گذرے انہوں نے کبھی بادشاہت کی حمایت نہیں کی حالانکہ ان کو بڑے بڑے عہدے پیش کیے گئے۔ حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کو جیل میں ڈالا گیا اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ کو کوڑے مارے گئے لیکن انہوں نے ظالم سلطان کے سامنے کلمہ حق ادا کیا اور اللہ تعالیٰ کی نظر میں سرخرو ہوئے۔ جب آپ کی وفات ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں تم سے خوش ہوں احمد۔ مانگو کیا مانگتے ہو؟ امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ انہوں نے درخواست کی کہ میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں یا اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواسست قبول کی اور عرش کے نیچے ایک گوشے میں انہیں جگہ عطا فرمائی جہاں سے وہ اللہ کو دیکھتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ قران میں فرماتے ہیں کہ اللہ اور اس کے فرشتے مومنوں پر سلام بھیجتے ہیں جس کے سبب وہ راہ راست پاجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سلف صالحین کے زمانے ہی میں نہیں بلکہ تابعین اور تبع تابعیں کے ادوار میں بھی ایسے حکمراں عطا کیے جو نہ صرف نیک اور انصاف پرور تھے بلکہ رعایا کو راہ راست پر چلانے والے بھی۔ مثلا عمر بن عبدالعزیز ؒ صلاح الدین ایوبیؒ ٗ محمود غزنوی ٗ فیروز تغلقؒ ٗ شیر شاہ سوری اور اورنگ زیب عالمگیرؒ۔ ہمارے نوجوان نہیں جانتے کہ شیرشاہ سوری نے صرف چار برسوں میں پشاور سے کلکتہ تک سڑک بنائی تھی جس کے ہر دس میل پر چوکیاں تھیں جہاں سپاہی اور قاصد آرام کرتے اور کھانا کھاتے تھے۔اور اس کے لیے اس نے کوئی سودی قرض نہیں لیا تھا۔ یعنی امت کو سنوارنا حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن مردود طارق جمیل اور اس کا تبلیغی ٹولہ یہ سمجھتا ہے کہ حکمرانوں کی خوشامد کرتے رہو ٗ اپنا الو سیدھا کرتے رہو اور لوگوں کو مراسم عبادات کو اتنا بڑا کرکے دکھاءو کہ مسلمان اسی کو سب کچھ سمجھ کر امر بالمعروف اور جہاد فی سبیل اللہ کو غیر ضروری سمجھ لیں۔ اسی لیے طارق جمیل کبھی افغان مجاہدین کی تعریف میں ایک لفظ نہیں کہتا۔ حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انھیں اس قدر نوازا ہے کہ جس کی کم مثالیں ملتی ہیں۔ انہوں نے انیسویں صدی کی عظیم سپر پاور برطانیہ کو شکست دی اور صرف ڈاکٹر کو زندہ چھوڑدیا تاکہ وہ جاکر فوج کی تباہی کی خبر بادشاہ کو سنا سکے۔ بیسویں صدی کے اختتام پر انہوں نے عظیم عسکری قوت سویت یونین کو شکست دی یہاں تک کےاس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے۔ اور اکیسویں صدی کی ابتدا میں انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی قوت امریکہ کو شکست سے دوچارکیا یہاں تک کہ وہ اور اس کے ناٹو اتحادی بینک کرپٹ ہوگئے۔ آج دنیا کے سات مقروض ترین ممالک میں امریکہ برطانیہ اٹلی اور یونان شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑدے تو کوں ہے جو تمہاری مدد کرسکے۔ یہی وجہ تھی کہ علامہ اقبال افغانستاں کی آزادی میں ایشیا کی آزادی دیکھتے تھے اور افغانستان میں فساد کو پورے ایشیا کا فساد قرار دیتے تھے۔
آسیا یک پیکر آب و گل است ملت افغاں درآں پیکر دل است
از فساد او فساد آسیا درکشاد اوکشاد آسیا
طارق جمیل اور اس کا پیش رو زکریا کاندھلوی بے خبر نہیں ہیں۔ بلکہ جان بوجھ کر اسلامی نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔ زکریا کاندھلوی نے ایک کتاب خرافات لکھی ہے ” فتنہ مودودیت ” جبکہ سید موودودی نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا۔ قران کریم کا ترجمہ کیا ہے از فاتحہ تا الناس۔ جسے جس آیت پر عمل کرنا ہو کرلے۔ جبکہ زکریا کاندھلوی نے ضعیف احادیث کا مجموعہ اکٹھا کیا ہے جس میں صرف رسومات عبادت کی اہمیت جتائی گئی ہے۔ لیکن امر بالمعروف ٗ نہی عن المنکر کا ذکر نہیں ہے اور نہ کہہں جہاد فی سبیل اللہ کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ انگریزوں نے لالچ دے کر اس سے یہ کتاب لکھوائی۔ کیوں وہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے خائف تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے غلام احمد قادیانی سے فتویٰ دلایا تھا کہ جہاد کا دور ختم ہوگیا اب صرف زبانی تبلیغ کا دور ہے۔ حالانکہ جس دور میں وہ مرا اسی دور میں جنگ عظیم اول شروع ہوئی جس میں کڑوڑوں لوگ مارے گئے اور خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔
اسلام آللہ کا آخری دین ہے اور محمد مصطفۓٰ صلی اللہ علیہ و سلم آخری رسول ہیں اور آپ کے ارشادات اور احکام قیامت تک قائم اور واجب العمل ہیں۔
کراچی 28 نومبر 2016
محمد جاوید اقبال کلیم

Who says miracles don’t happen nowadays?

This multiverse is not Godless. There is a Kind and Merciful God, Allah taking care of His creation! Who says miracles don’t happen now? Afghanistan, a poor and backward nation, has defeated USA so much so that she has been rendered bankrupt. Here is the proof:
http://www.forbes.com/sites/mikepatton/2014/09/29/the-seven-most-indebted-nations/#6095d3aa2cb3
Her stockpile of weapons, her latest technology of watching every single inch of a country via satellite cameras could not save her from defeat. Allah helped Afghanistan and she singlehandedly defeated United States of America, supported by her NATO allies. Her prosperity, her lavish life style couldn’t avert her defeat. Allah has clearly said in Quran:
3:160 If God supports you, none can ever overcome you; but if He should forsake you, who could succour you thereafter? In God, then, let the believers place their trust!
This sure source of success was not believed by educated Pakistanis, but was firmly believed by Afghans and they proved it! Now their problem is to find a power that can sustain their lavish lifestyle. They are not hardworking any more nor have any shame left. Pakistani Airforce felt no shame in bombarding tribal areas like Waziristan and killing thousands of men, women and children. They boast their success. Although such inhuman bombings are not allowed. But the world is in the hands of filthy rich Jewish bankers and they can dictate terms to any world power. Yet all power on earth proved insufficient to defeat determined and resolute Afghans.
Hundreds of thousands of Pakistanis who migrated to USA are caught in a dilemma, whether to stay or return to country of their origin? They are taking time due to inertia, but not too far in future, they will return to Pakistan and bring all their savings and skills for benefit of Pakistanis who stayed patiently and didn’t choose to leave!
Muhammad Javed Kaleem Karachi, 27th November 2016