Result of non implementation of Shariah Law

 

ستر برس ہوچکے  لیکن ابھی تک شریعدت کا نفاز ٹلتا رہے ہے کیوں کہ   پاکستانی حکمرانوں کے امریکی آقا  اسے  ۔ پسند نہیں کرتے۔  ان احمقوں کو اندازہ نہیں کہ  اللہ تعالیٰ  شرعی  قانون نافذ نہ کرنے پر کتنا  غصبناک ہوتا

ہے۔ کلام پاک میں فرمان ہے کہ اے یہود و نصاریٰ تم کسی چیز پر نہیں ہو جب تک تم توریت اور انجیل کے ضابطہ ء قانون کو  نافذ نہ کر دکھاءو۔   جماعت اسلامی  جو نفاذَ شریعت کی دعوت لے کر اُٹھی تھی  زبانی  کلامی    بیانا ت جاری کرنے کے سوا کچھ نہ کرسکی۔ خود اس کی قیادت میں فضل اللہ جیسے مخلص رہنما تھے  ) سا بق امیرجماعت اسلامی  سوات) کو حکومت کی سزا کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا۔  کاش جماعت میں غیرت و حمیت کی کوئی رمق باقی ہوتی تو وہ  اس وقت تک خاموش نہیں ہوتی  جب تک پاکستان کی حدود میں شرعی قانون نا فذ نہ ہوجاتا

سچ ہے کہ   غیور شخص ایک بار مرتا ہے اور بے غیرت بار بار۔   مصر میں  اخوان المسلمین نے  شریعت کےلیے سر

ڈھر کی باازی  لگادی۔ اس لیے کہ وہ اہل زبان  ہونے کے ناظے  دین کے تقاضون سے  آگاہ تھے۔ کے امیر  حسن البناء  بیس برسوں تک جیل میں محبوس رہے اور جب اپنے مطالبے سے باز نہ آئے تو انھیں  سولی دیدی گئی۔ کاش  لیکن  سید مودودی  کے بعد    حکومت سے مفاہمت کرنے   والے بے حمیت   امیر  مقرر ہونے لگے ۔ حتیٰ کہ  جماعت  کی امارت  سراج الحق جیسے  دولت کے بھوکے شخص کے  ہاتھ لگی۔  اگر  شریعت نافذ ہوجاتی تو  آسمان سے اللہ کی رحمت  برستی اور  امریکہ کی دھمکیاں دھری کی دھری رہ جاتین کیونکہ   اللہ جسے ساتھ ہو اسے کوئ  شکست نہیں دے سکتا۔

معاشرے کی تباہی کا  اہم  سبب بھارتی  فلموں اور ڈراموں کی  پاکستانی  سنیما گھروں اور کیبل پر نمائش ہے۔ بھارت میں جنسی جرائم  جس طرح عام ہیں حتیٰ کہ  ٹرینوں اور  بسوں میں  خواتین پر  جنسی حملے ہوتے ہیں اس کا  سبب اُس کی  فلموں کی بے حیائی اور   بے راہ روی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلم معاشرے میں فحاشی اور عریانی  پھیلانے کو  بدترین مجرم قرار دیا ہے۔ لیکن وطن عزیز میں نہ تو حکومت، نہ بیوروکریسی اور نہ جنرلز کو  قوم کی اخلاقی  اقدار کی حفاطت کا  شعور ہے اور نہ  میڈیا میں کوئی  حمیت رہگئی ہے۔

کاش ہماری  نوجوان  نسل کو غیرت آئے اور وہ  شریعت کے قاانون کو نافذ کیئے بغیر چین سے نہ  بیٹھے۔

 

کراچی  11  جنوری 2018

محمد جاوید اقبال کلیم

 

 

Advertisements

اپنی کتاب اپنی زمین پر نافذ کرنا لازم ہے

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّىَ تُقِيمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا فَلاَ تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ

اللہ تعالیٰ نے  یہود و نصاریٰ سے فرمایا ہے کہ  تمہارے ایمان کی کوئی  وقعت نہیں ہے جب تک تم اپنی کتاب  کو اپنی زیر  تسلط زمین پر نا فذ نہ کردکھاءو۔  ہمارا آج کا المیہ یہی ہے کہ  ہم بجائے قران کو نافذ کرنے کے اس کی تلاوت کو کافی   لیتے ہیں۔ اور ہمارے زوال کی وجہ یہی ہے کہ ہم قران کو سچ مانتے ہوئے بھی اس پر عمل نہیں کرتے۔  انفرادی

نیکی بے معنی ہے جب تک قوم کا اجتماعی  شعور اسے قران کی ہر ہدایت پر عمل کرنے کا پابند نہیں کرتا۔ ذکر تو  آسمان کے پرندے اورسمندر کی مچھلیاں بھی کرتی ہیں۔  انسان کو جو ذکر  عطا  کیا گیا  ہے و قران  مجید ہے  جس کے متعلق   اللہ  تعالیٰ نے فرمایا کہ  ہم ہی نے ذکر نازل فرمایا اورہم  ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ اشرف المخلوقات

کی حیثیت سے ہمارا فریضہ قران  سمجھ کر پڑھنا اور اسے نافذ کرنا ہے۔ اس  کے ذریعے  نہ  صرف  معشرے میں امن و سکون پیدا ہوگا بلکہ  معاشی خوشحالی بھی آئے گی۔  تعلیم یافتہ اور با شعور ہونے کے سبب  ہمیں چاہیئے کہ   صرف سچ بولیں اور سچوں کا  ساتھ دیں۔ جیسا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اے ایمان لانے والو سچوں کے ساتھ ہوجاءو۔  ہم   برما    لیبیا      فاشام عراق لیبیا  افغانستان  اور  یمن میں مسلمانوں کا قتل عام دیکھ چکے ہیں اور  نائیجیریا اور صومالیہ میں مسلمانوں  ۔کو فاقے کرتے اور پیاس سے ترستے دیکھا ہے۔  ہم  دودھ کے دھلے ہوئے نہیں ہیں کہ ہم پر

عذاب نہ آئے۔ ہمیں  غریب بھائی بہنوں کی مدد کرنی چاہیئے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا چاہیئے اور  نیکی کا حکم دینا چاہیئے اور برائی سے  روکنا چاہیئے۔ اگر ہم قران کو  نافذ اور  غالب نہ کرسکے تو

ہماری داستان بھی نہ ہوگی داشتانوں میں۔

کراچی   11 نومبر  2017                                                                                                  محمد جاوید اقبال

کون کہتا ہےاب معجزے نہیں ہوتے

کوئی آٹھ دس سال پہلے کی بات ہے میری ملاقات فصیح صاحب سے ہوئی۔ وہ کمیونسٹ تھےاور اللہ پر یقین نہ رکھتے تھے۔ ایوب دور میں انھیں گرفتار کیا گیا۔ ان کو تنگ کرنے کے لیے دن میں بھوکا رکھا جاتا اور پھر رات کو جب وہ بھوکے ہوتے تو پیٹ بھر کے کھانا کھلایا جاتا۔ انہیں نیند آنے لگتی تو سونے نہ دیا جاتا۔ تاکہ وہ اپنے کمیونسٹ ہونے کا اعتراف کرلیں۔ لیکن وہ بھوکے رہنے کو ترجیح دیتے۔ پھر انھیں سزا ہوئی اور کئی برس جیل میں رہے۔
وقت گذرتا رہا۔ تا آنکہ امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کی مدد سے سویت یونین کو شکست دیدی۔ فصیح صاحب بہت دل شکستہ ہوئے۔ ان کی آمدنی کا ذریعہ چھن گیا۔ناچار وہ کسی ہوٹل کے بکنگ کلرک کی حیثیت سے خلیج چلے گئے۔
لیکن چند برس ہی جاب کی ہوگی کہ انھیں کینسر ہوگیا۔ ناچار پاکستان آئے۔ تو بیوی نے جو مسلماں تھیں انھیں بتایا کہ حکیم سعید صاحب نے کینسر کا علاج تلاش کرلیا ہے اور عام سی جڑی بوٹیوں سے علاج کرتے ہیں۔ انھیں یقین نہ آیا۔ لیکن کوشش کردیکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔ لہذا حکیم سعید صاحب کو دکھانا شروع کیا ۔وہ یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ حکیم صاحب محض نیم کے پتوں سے کینسر کا علاج کرتے ہیں۔ اور چند ہی ماہ
ےامیں وہ صحتیاب ہوگئ
س کے بعد کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ پھر سے مسلماں نہ ہوجاتے۔

مسلمانو ! محرم کو سمجھو

انحہ کربلا کو 1400 سال ہوگئے۔ ابھی تک امت اس صدمے کے اثر سے باہر نہیں آسکی۔ اس سے بڑا سانحہ وفاتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ہے۔ لیکن ایک آدھ دن یاد کرنے کے سوا امت کچھ نہیں کرتی  جبکہ کربلا کے لیے کم از کم دس دن اور زیادہ سے زیادہ چالیس دن ماتم کیا جاتا ہے۔ گویا امام حسین قتل نہ کیے جاتے تو ابھی تک زندہ ہوتے۔ خود فریبی سی خود فریبی ہے۔                                                                                                                                  

قران صاف صاف فرماتا ہے : جو کچھ اس (زمین ) پر ہے اسے فنا ہوجانا ہے۔ صرف تیرے رب کاچہرہ باقی رہ جائے گا۔اس قانون کے تحت ہر نیک و بد مرجاتا ہے یا اسے قتل کردیا جاتا ہے۔ سینکڑوں بیماریان دریافت ہوچکی ہیں اور نہ جانے کتنی نئی دریافت ہونا باقی ہیں؟پھر کسی کی شہادت پر ماتم کیسا؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے جو جلیل القدر رسول گذرے وہ بھی وفات پاگئے یا شہید کردیئے گئے۔ لہذا یہ توقع ہی غلط تھی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یا ان کی آلِ مبارک ہمیشہ روئے زمین پر رونق افروز رہے گی۔ ہمیشہ ہماری دلداری اور حوصلہ افزائی کے لیے رب تعالیٰ کی ذاتِ گرامی موجود ہے۔ رب کا فرمان ہے: اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی ہے اور نہ مددگار!  پس جب وہ عظیم ہستی خود ہماری دلدہی اور حوصلہ افزائی کے لیے موجود ہے تو ہمیں کیا غم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ کے  دوستوں کو نہ کوئی فکر ہے نہ غم!

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارک تمام مسلمانوں کے لیے نمونہ ہے۔ آپ کے فرزند ابراہیم رضی اللہ عنہ وفات پاگئے اور تین بیٹیاں قتل ہوئیں یا وفات پاگءیں۔ لیکن آپ نے آنسو تو بہائے لیکن کبھی ماتم نہیں کیا۔

آپ اپنے صحابہ سے بہت بلند وبالا تھے۔ حضرت ابوبکر رضٰی اللہ عنہ اکیلے ہجرت کرنے والے تھے۔ حضور نے انہیں روکا اور اپنے ساتھ مدینہ لے گئے جس کے سبب انھیں افضل البشر کا خطاب ملا۔ حضرت عمر کہتے تھے کہ ابو بکر ان کے ساری زندگی کے اعمال لے لیں اور اس کے بدلے وہ چند دن دییدیں جو حضور کی معیت میں انھین مدینہ کے سفر میں نصیب ہوئے۔ صحابہ کا اللہ کے رازق ہونے پر یقین نہ تھا۔ اس لیے سورہ جمعہ میں آتا ہے کہ وہ  حضور کو منبر پر کھڑا چھوڑ کر بازار چلے گئے تھے کیوں کہ غذا کی قلت تھی اور خوراک لے کر ایک قافلہ مدینہ آیا تھا۔

جیسا کہ علامہ اقبال نے بتایا ہے جو دین آپ لائے ہیں اس کا واحد مقصد جبرو استحصال کا خاتمہ ہے:

تاکسے نہ باشد محتاجِ کس             غایتِ دینِ مبیں ایں است و بس

حضور نہ صرف عام دنوں میں خود بھوکا رہ کر اوروں کو کھلاتے بلکہ جنگ کے دوران بھی آپ کے ایثار کا وہی عالم ہوتا۔ صحابہ ایک پتھر باندھ کر جہاد کرتے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دو پتھر باندھے ہوتے۔ آپ کو کفار کے ہاتھوں نہ صرف پتھر کھانے پڑے بلکہ آپ کو گالیاں بھی دی گءیں یہاں تک کہ خون آپ کے سر سے بہ کر ایڑیوں تک  

جا پہنچا۔ حضور ہمارے لیے کتنا اعلیٰ اسوہ حسنہ چھوڑ گئے ہیں۔ کاش ہماری پوری زندگی آپ کے اتباع میں صرف

ہو سکے

محمد جاوید اقبال

رمضان المبارک پر حضور نبی کریم صلی اللہ علی وسلم کا وعظ

Alhamduli’Allahi Rabbil-‘Aalameen
wa-Salaatu wa-Salaamu ‘alaa Ashrafil-Anbiyaa-e-wal-Mursaleen~ `Amma `Baa`d.

‘Assalaamu `Alaykum wa Rahmatullaahi wa Barakaatuhu’

*Virtues  Of  The  Month  Of  Ramadhaan*

*PROPHET*~[Sallallaahu `Alaihi wa Sallam]~ 
  First   Khutbah… !

‘O Muslims… Fear Allaah and Obey Him !~
 
I give you glad tidings as the month of ‘Ramadaan’
 is approaching…
 This is the month in which the ‘Qur’aan’ was revealed
as a guidance for mankind, as well as a clarification and differentiation between truth and falsehood !

During this month, the Gates of Mercy are opened 
and the gates of hell are sealed.

Satan and all other Jinn are chained during this blessed month…Rewards for good deeds performed in this month 
are multiplied, sins forgiven and supplications responded 
to and answered.
It is the month of Perseverance, Mercy, 
Compassion and Charity.

Salmaan Al-Faarisi ~ 
[may Allaah be pleased with him] reported that…

 Prophet ~[sallallaahu `Alaihi wa sallam]
gave a speech on the last day of ‘Sha’baan’, and said…
"O people !
You are being approached by a great and blessed month.
 A month which contains a Night that is better than
 One Thousand  [1000]  months !
 
Allaah made fasting within it an obligation,
and made praying on that night an optional 
act of worship.
 
he who performs any righteous voluntary act within it, 
will be rewarded like one who doesan obligatory act at any time other than during ‘Ramadaan’…{!}
 
‘he who performs an obligatory act of worship within it will 
be rewarded like he who performs Seventy~[70] acts of worship at any time outside this month !
 [‘Alhamdullilah’ !]
 

It is the month of Perseverance -and 
perseverance is rewarded with ‘Jannah’~{Paradise}!
 
It is the month of Compassion,
in which the sustenance of a believer increases !
 
"he who feeds a fasting person within this month has his sins forgiven and he will be protected and released from the hell fire… he also gets the reward of that person’s fasting without decreasing the reward of the fasting person.”

Then the companions~
[may Allaah be pleased with them] said…

‘O messenger of Allaah ! Not all of us can find the extra food needed to feed another fasting person’.

So the Prophet [Sallallaahu ‘Alaihi wa Sallam] responded:
 
‘Allaah will give you the reward of feeding a fasting person even if you were to give him just a sip of milk,
…a date, or a sip of water…{!}

He who feeds a fasting person until he is full,
Allaah will make him drink out of my river, a sip of which will never allow him to be thirsty until he enters ‘Jannah’…!’

Then he continued…
‘This is the month the beginning of which is Mercy,
the middle part is Forgiveness…
and the last part of it is Release from Hellfire.’

(Source: Al-Bayhaqi).

"So, pay attention, may Allaah be merciful to you all”
 ‘Pay attention !
O believers, to the speech of the Prophet
{Sallallaahu `Alaihi wa Sallam }

in which he gave glad tidings of the month of ‘Ramadaan’ to his companions and informed them of its virtues and how the reward of righteous deeds performed therein is multiplied.
Indeed, it is a great and blessed month…!
 
The Prophet [Sallallaahu `Alaihi wa Sallam ] said..

referring to the month of Ramadaan~

"Never has a better month arrived
for the believers and never has a worse month come
to pass for the hypocrites.”