جماعت اسلامی کی ناکامی کے اسباب

جماعت سے لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں کیونکہ اس کا قیام کسی فرقہ کی تعلیم یا علاقائی عصبیت کے سبب عمل میں نہیں اٰیا تھا۔ بلکہ اس کے بانی سید ابواعلیٰ مودودی کے فہم قران کے سبب وجود پذیر ہوا تھا۔ لیکن ہم جیسے سادہ لوح جس کے پرچم اٹھاتے اور جس کے جلسوں میں دریاں بچھاتے رہے
وہ اکثریتی جماعت کی خوشنودی اور اُس سے مراعات سمیٹنے میں یقین رکھتی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جماعت کے تربیت یافتہ شفیع نقی جامعی ٗ جاوید ہاشمی اور حسین حقانی برسر اقتدار جماعت کے کارکن بنے اوربلکہ فاروق مودودی تو پاکستان دشمن عوامی لیگ کی لیڈر حسینہ واجد سے پاکستان سے غداری کا انعام بھی لے آئے۔ کاش اُسے اسلام کی نمائندہ جماعت سمجھنے والے سید قطب ؒ اور سید موودی کے انجام ہی سے جان لیتے کہ جو جذبہ اور لگن سید قطب ؒ میں تھا وہ سید مودودی ؒ میں نہیں تھا جبھی قطب شہادت پاگئے اور مودودی محروم رہے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ آپا نثارفاطمہ کے صاحبزادے احسن اقبال نواز لیگ کے ایم این اے اور وزیر بنے اور انہوں نے سودی قرضوں کے ذریعے خوشحالی لانے کے ڈھونگ میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ بلکہ حسین حقانی تو آصف زرداری جیسے بے ضمیر سیاستداں کے ایجنٹ بننے اور امریکہ کے لیے پاکستان کی جاسوسی کرنے میں بھی شرم نہیں آئی۔ جماعت کی شوریٰ کے فہم ولیا قت کا بھانڈا اسی سے پھوٹتا ہے کہ اس کے ارکان سراج الحق جیسے مفاد پرست اور بے ضمیرشخص کو لیڈر منتخب کرلیتے ہیں جو عمران خان کی مخالفت کرکے نواز لیگ سے رقم بٹورتا ہے اور سپریم کورٹ میں پیسے بچانے کے لیے نا اہل وکیل مقرر کرکے عدالت کو اپنی غیر سنجید گی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔
حال ہی میں وہ جمعیت العلماء اسلام کے ایک لیڈر سے ملا اور اس کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کی درخواست کی۔ دیکھا جائے تو فرقہ وارانہ جماعتوں کو خوش کرنے اور ان کے ساتھ اتحاد قائم کرنا قرانی ہدایت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرقے بنانے سے واضح طور رپر منع فرمایا ہے اور نہ ماننے والوں کو سخت عذاب کی نوید سنائی ہے۔ کوئی فرقہ صحیح نہیں ہے بلکہ ہمارے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پسندیدہ نام مسلمین ہی درست ہے۔ کیا قران کے ترجمے اور تفسیر میں ساری عمر کھپادینے کے باوجود سید مودودی کو یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ وہ سیاسی فائدہ کے لیے نام نہاد دینی جماعتوں سے اتحاد نہ کریں بلکہ جماعت اسلامی ہونے کا حق ادا کریں ورنہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں منافق ٹھیریں گے۔
اللہ کی لعنت ہو مجیب الرحمان شامی جیسے منافق مصنفین پر جو سرا ج الحق جیسے منافق شخص کی حمایت کرتے رہے اور اس کی سادگی اور کفایت شعاری کے گن گاتے رہے۔ خدا جانے مجھے یہ خوش فہمی کیوں تھی کہ جب نچلے متوسط طبقے سے قیادت ابھرےگی تو کسی مفاد پرستی سے گریزکرے گی۔ مشرف نے جو فوجی افسروں کو نجی اداروں کی طرح پرسنل اکاءنٹ دیے تھے وہ جماعت اسلامی اور جمیعت العلماء کے رہنمائوں کو خریدنے کے لیے تھے۔ جمعت العلماء تو خیر سدا کی پاکستان دشمن تھی۔ لیکن جماعت ایک محب وطن جماعت ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی فوجی جنرلز کی آلہ کار بنی جو پاکستان سے عمدہ تنخواہ لینے کے باوجود امریکہ کے پے رول پر رہے۔ سو وہ ہمارے نہیں ہمارے دشمن کے ہمدرد ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں وہ بے ضمیراور بے غیرت رہنما نما رہزنوں سے نجات دلائے اور صرف اور صرف اپنی ذات والا صفات پر یقین رکھنے والا بنائے۔ آمین کتنے عرصے سے ہم کبھی برطانیہ کبھی امریکہ اور کبھی چین کی بر وقت امداد کی توقع کرتے رہے اور اللہ رب العزت کے اس فرمان کو قابل اعتنا ء نہ سمجھا۔
وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر
کراچی 22 جون، 17
محمد جاوید اقبال کلیم

یہ کم ہمتی و بزدلی

نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا
میں ہلاک جادوءے سامری تو قتیل شیوہ آذری
منافقت اس قدر عام ہے کہ مغرب سب کچھ جان کربھی کچھ نہیں جانتا اور مشرق مغرب سے اس قدر مرعوب و متاثر ہے کہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ
اس میں مرد بھی بستے ہیں۔ مزے کی بات ہے جس مغربی شخص نے پنامہ لیکس کا راز عام کیا وہ کوئی مرد نہیں بلکہ ایک ہیجڑا ہے۔ پاکستان میں منافقت اس قدر عام ہے کہ چیف جسٹس ہو یا چیف آف آرمی اسٹاف دولتِ دنیا کی خاطر اپنے مقام اور مرتبے سے گرجاتے ہیں۔ انھیں نہ خدا کے غضب کا خوف رہا ہے اور نہ رسول کریم صلی اللہ کو منھ دکھانےکی فکر۔
میں نے پندرہ برس لیبر کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک لیبر کے حقوق کے مقدمات لڑے ہیں۔ میں نے بعض مسلمان ججوں کی لالچ اور بے ایمانی دیکھی ہےاور ایک عیسائی جج ڈینیئل کی دیانت داری دیکھی ہے۔
جیسے ہے نواز شریف کی جانب سے قطر کے شہزادے سے رقم لینے کا اعتراف سامنے آیا تھا۔ اسے فورا نااہل قرار دے کر جیل بھیج دینا چاہیئے تھا۔ کیوں کہ قطری شہزادے نے دولت پاکستان کی حکومت کو دی تھی نہ کہ نواز شریعف کے ذاتی اکاءونٹ کے لیے۔ اور اگر یہ رقم نواز شریف کو ذاتی طور پر دی گئی تھی تو یقیناً یہ ایک رشوت تھی جس کے سبب اسے فورا نااہل قرار دے کر گرفتار کیا جانا چاہیئے تھا۔ مگر پانچ سینیئر اور مقتدر جج یہ فیصلہ نہ کرسکے۔ کسی کو میاں نواز شریف سے دوستی یاد آگئی اور کسی کو اس کی دولت نے باز رکھا۔ عمران خان کے وکلاء کو برقت یہ بات نہیں سوجھی۔ اس طرح وہ مقدمہ جیتنے کا ایک نادر مقوقع گنوا بیٹھے۔
سوچ تو دل روتا ہے کہ ان کے ہیجڑے ہمارے مردوں سے زیادہ حوصلہ رکھتے ہیں۔ اور ہمارے اہل اقتدار میں خواہ وہ سیاستداں ہوں یا جج یا فوجی جنرل ایک مرد کی جراءت و ہمت نہیں ہے۔ حالانکہ اقبال بتا گئے ہیں کہ
آئین جوان مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔
کراچی 11 جون 2017 محمد جاوید اقبال کلیم

یہ ملعون میڈیا

قوم صوم نماز روزے اور تراویح میں مصروف ہے۔لیکن یہ ملعون میڈیا اور اخبار سوفی صد اپنے یہودی مالکوں کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ اور ایک آدھ ہی استثنا نظر آتا ہے۔ افطار کے وقت کے انتظار مین ڈاکٹر شاہد مسعود کی ہفوات سن رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا پاکستان میں جو بھی اقتدار سے محروم ہو ا وہ یا مارا گیا یا ذلیل و خوار ہوا اور وہ اسکندر مرزا اور شہید ملت لیاقت علی خاں کو اس ضمن میں مثال کے طور پر پیش کررہا تھا۔ اس مردود سے نہ ہوا کہ امریکی حکومت کی دخل اندازی اور شہید ملت اور ضیاء الحق کے قتل کی زمہ داری امریکہ پر رکھتا اور بے نظیر کی شہادت کا ذمہ دار بھی امریکہ کو قرار دیتا ۔ کیوں کہ یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ امریکہ پاکستانی حکومتوں میں مداخلت کرتا آیا ہے اور اس نے کئی حکمرانوں کو قتل کیا ہے۔
صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے اینکر منافق ہیں اور جو زیادہ معاوضہ دے اس کے ایجنٹ۔ ظاہر ہےکہ یہودی بینکوں سے زیادہ معاوضہ کون دے سکتا ہے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود بھی ایسا منافق ہے اور امریکہ کی پاکستانی سیاست میں مداخلت کو چھپانا چاہتا ہے۔ یہ وہی ڈرامہ باز ہے جو ایک طرف اختتام وقت قریب ہونے پر پروگرام کرتا ہے اور دوسری جانب زرداری کے بلانے پر پی ٹی وی کا سبراہ بن جاتاہے۔

اایسےہی بے ضمیر اینکرس ہمارے عقل و شعور پر بچھو بن کر مسلط ہیںامریکہ میں رہ کر پاکستانی اخبار میں کالم لکھنے والی ایک مخلوط عورت نے لکھا ہے کہ پاکستانی جنرل سوچتے ہیں کہ وہ پاکستان کے لیے کیوں لڑیں ۔کیوں کہ جب پاکستان میں لال مسجد والے مولوی عبدالعزیز فوجی افسروں کو مارنے کے باوجود
آج بھی عزت سے دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن مسجد پر کیمائی ہتیاروں سے حملہ کرنے والے اب بھی واجب التعظیم سمجھے جاتے ہیں۔ کاش کوئی اسے بتاتا کہ جنرل تو ویسے ہی امریکہ سے ملنے والی تنخواہ کے لیے لڑتے ہیں۔ یہ تو عام فوجی ہیں یا جونئیر افسر جو اللہ کی رضا کے لیے جنگ کرتے ہیں۔ اللہ تعالی دین حق کے لیے لڑنے والوں کو فتح و کامرانی عطا فرمائے۔ آمین۔

خون مسلم کی ارزانی

غم کے طوفاں سے ستلج کے کنارے بے تاب ایک سیاہی سی رخ خورشید پہ پھرنے کے قریب
چاند خود اپنی جگہ ٹوٹ کے گرنے کے قریب

یہ ایک بھولی بسیری نظم کے اشعار ہیں جو 1947 میں مسلم لہو کی ارزانی کے بارے میں کہے گئے تھے۔ کتنے لوگوں نے انھیں فراموش کردیا لیکن بعض درد آشنا دل انیھں نہ بھلا سکے۔
ان کا پلان انگریز حکمرانون نے بنایا تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے اس کا نفاذ کیا تھا۔ اور سکھوں اور ہندءوں نے ان کو عملی جامہ پہنیا یا تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے ابوالکلام آزاد اور حسین احمد مدنی نے قومی غداروں کارول ادا کیا تھا۔ ان مردودووں کو خدا کا ذرا خوف نہ تھا
اور قہر تو یہ ہے کہ ان کے چیلے چپاٹے ہی اج کے نام نہاد علماء کے سرخیل بنے ہوئے ہیں۔شرمو حیا تو انھیں چھوکر نہیں گذری جو خود اپنی غلطی کا اعتررف کرکے کنارہ کش ہوجاے۔
آج بھی حسین احمد مدنی اور ابوالکلام کے تابعیں وطن عزیز میں وافر مقدار میں مل جاتے ہیں۔۔
اللہ انھیں قرار واقعی سزا عطا فرمائے۔
نظم کی کتابوں کے علاوہ دردمند دل رکھنے والے انساںون نے ” جب امرتسر جل رہا تھا” جیسی کتابیں لکھیں اور نئی نسل کو احساس دلایا کہ کتنی قربانیوں کے بعد وطن عزیز آزادی کی نعمت سے سفراز ہوا۔ بھارتی حکومت بھارتی مسلمانوں سے نئی تاریخ لکھوا رہی ہے اور عظیم مسلم فاتحین کی کردار کشی کررہی ہے۔ کل ہی میں نے ایک بھارتی رائیٹر سے احمد شاہ ابدالی ؒ کے کردار کے بارے میں ہرزہ سرائی دیکھی۔ وہ عظیم مجاہد جو صف 45 ہزار کی فوج سے مرہٹوں کے نو لاکھ کے لشکر کو خاک چٹا چکا تھا اسے لالچی اور بد کردار دکھایا گیا۔
بھارت جانتا ہے جب تک مسلمان اللہ کے حکم پر چلتے رہیں گے۔ کامیابی ان کے ہمراہ رہے گی۔ اسی لیے وہ اپنی مکارانہ چالوں سے باز نہیں آریاہے۔

اہل دین و دانش کی ناکامی

متاع دین و دانش لٹ گئی آللہ والوں کی یہ کس کافر ادا کاغمزہ ءِ خوں ریز ہے ساقی
کیا ِاس دنیا کا مال و منال اُس دنیا میں کام آئے گا؟ ہم جانتے ہیں کہ یہ کاغذی نوٹ وہاں کام نہیں آئیں گے۔ پھر بھی ڈالر کی خاطر ہمارے سیاستداں بیورو کریٹس اور جنرلز وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں جسے عرف عام میں غداری کہا جاتا ہے۔ کاش ہمیں آحساس ہوتا کہ ہمارے رہنما ہمیں کاغذی کرنسی کے عیوض فروخت کرچکے ہیں۔ حتیٰ کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی مقروض ہوگئی ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہفتہ وار چھٹی جمعہ کے بجائے اتوار کو ہوتی ہے۔ اور اسکول اور کالج کے نصاب سے قران کریم ہی نہیں بلکہ علامہ اقبال کا کلام بھی خارج کیا گیا ہے۔ قومی دن پر بھی کلام اقبال سامعہ نواز نہیں ہوتا۔
پاکستانیوں کو نہ صرف میڈیا غلط اور نامناسب ملتا ہے بلکہ ایک بھی متوازن اور دیانت دار اخبار مطالعے کے لیے موجود نہیں ہے۔میں نے یکے بعد دیگرے کئی اخبار اآزمائے ہیں لیکن سبھی حکومت کے کھلے حامی نکلے یا درپردہ حلقہ بگوش۔ حبیب جالب یاد آتے ہین؛
لٹ گئی اس دور میں اہل قلم کی آبرو بک رہے ہیں صحافی بیسواءوں کی جگہ۔
آج کل میں روزنامہ اسلام پڑھ رہا ہوں۔ اس کی خرابی یہ ہے کہ اسے ضمیر فروش مولوی تقی عثمانی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ بھلا جو شخص پیسوں کی خاطر میزان بینک کو شرح سود کی بنیاد پر منافع مقرر کرنے کی اجازت دے اس سے بڑھ کر خبیث اور منافق کون ہوگ اسلام نامی اخبار میں قران اور حدیث کے بجائے
موجود دور کے گمراہ مولویوں کا تذکرہ پایا جاتا ہے اور رب تعالیٰ کی ہدایت کہ صرف مسلمان کے نام سے پہچانے جاءو نظر انداز کردی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں سے ملت اسلامیہ کو بچائے۔

فیس بک مسلمانوں کا کردار ختم کررہی ہے

فیس بک جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کے سبب مسلمانوں کی نفرت کا نشانہ بنی تھی

۔ Face book that caused rage and anger of Muslims by posting blasphemous articles about prophet of Islam, has shown again its hatred of Islam by trying to destroy moral character of Muslims. Ignoring market of 1.75 Billion strong consumer market, FaceBook is following it anti-Islam and anti-Muslim role single mindedly as if it was invented to pursue the agenda of anti-Islam forces.
In face book people are requested for their pictures. Once picture is sent, requestor praises it and tries to come closer, even to people of same sex, thus inciting people for sins, in fact deadly sins. If you stop visiting the page, you get reminders from so called friends, asking if you are angry with them. Thus you are tied to face book. Even aged and the elderly are not spared.
So it is better to get rid of it, before you become an addict! Do it while you can, brothers and sisters!
A Muslim should have the insight in the designs and tactics of enemies. By using propagnda techniques, Jews have set Christians against Muslims, so that fightig each other they destroy each other and the Jews inherit the holy land by default. Their holdy land is a secular state and their
leaders are often criminals who asault ladies around them. How a characterless person lead the believers of One True God?
l
A

اپنی حرکتون سے باز نہیں آئی ہے حال ہی میں اُس نے پھر توہین رسالت مآب کا ارتکاب کیا ہے جس پر باخبر مسلمانوں نے احتجاج کیا ہے۔ایک منافع کا طالب ادارہ کبھی پونے دو ارب مسلمانوں کی مارکیٹ سے دستبردار نہیں ہوسکتا الا یہ کہ اس کامقصد نفع کمانا نہ ہو بلکہ کچھ اور ہو۔
فیس بک بوڑھے اور ریٹائرڈ لوگوں کو اہمیت کا احساس دلاتی ہے اور خواتین خانہ کو گفتگوکا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس لیے اس کے بے شمار خریدار ہیں۔ لیکن انہیں تہذیب و اخلاق سکھانے کے بجائےوہ انہیں فحاشی اور عیاشی کی طرف مائل کررہی ہے۔
طریقہ کار یہ ہے کہ فیس بک پر آپ جسے چاہیے دوست بناسکتے ہیں خواہ وہ مرد ہو یا خواتین۔ مغربی معداشرے میں دوست نہیں ہوتے۔ یا بوائے فرینڈ ہوتے ہیں یا گرل فرینڈز۔ فیس بک میں آپ نہ صرف اپنے "فرینڈ ” سے نہ صرف بات کرسکتے ہیں بلکہ اس کو تصویر بھی مھیج سکتے ہیں بلکہ مانگ بھی سکتے ہیں۔ پھر جب تصویر مل جاتی ہے تو صاحب تصویر کی وجاہت یا حسن و جمال کی تعریف کی جاتی ہے اور پھر ملاقات کا ڈول ڈالا جاتا ہے۔ اس طرح نوجواں لڑکیاں جو جلد رشتہ حاصل کرنا چاہتی ہیں منگیتر کی تلاش میں تباہ ہوجاتی ہیں۔ اور وہ مرد جنھیں عیش و عشرت کی طلب ہوتی ہے رابطہ قائم کرلیتے ہیں اور تعلقات کا آغاز ہوجاتا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ میں دنیا کو ایک امتحان گاہ خیال کرتا ہوں اور عیش و عشرت کا تصوربھی نہیں کرسکتا۔ بالخصوص جب لاکھوں مسلماں قتل کیے جارہے ہوں اور مسلمان بچیوں کی آبرو خطرے میں ہو کوئی کافر ہی ہوگا جو عیش و عشرت میں پڑنے کا سوچےگا۔
لہذا اے مسلمان بھائیو اور بہنو فیس بک کا عملی بائیکات کرو اور خیال رکھو کہ تمہارے بچے اس لعنت سے بچے رہیں۔
وما علینا الاالبلاغ
محمد جاوید اقبال کلیم

کیا میاں نواز شریف اپنے کرپشن کی سزا پائیں گے؟

جاگ اٹھو وقفہ تدبیر  ملے یا نہ ملے                  خواب پھر خواب ہے  تعبیر ملے یا نہ ملے

منعقد جشن سلاسل ہی کرو دیوانو                          گل آئے تو سہی زنجیر ملے یا نہ ملے

ہم تو خون اپنا  چراغوں میں جلاتے جائیں    اس سے کیا  صبح کی تنویر ملے یا نہ ملے

ہم کو منزل پہ پہنچنا ہے  بہر حال اعجاز    

 کوئی رہبر کوئی رہگیر ملے یا نہ ملے

یہ ناممکن  نظر آتا ہے۔ لیکن  حقیقتاً ایسسا نہین ہے۔  میاں نواز شریف کی کرپشن کی گواہی ان کے سانق  آقا یعنی انگری پریس نے بھی دی ہے۔ جو شاید ان کی نااہیل پر  خجل ہے اور ان سے انتقام لینے پر تل گیا ہے۔  اگر اس طرح  ظالم  اور بدعنواں  لوگوں میں پھوٹ نہ پڑے تو مکافات عمل کا امکان  معدوم ہرکر رہ جائے۔ ہز چیز کا ایک وقت مقر ر ہوتا ہے۔  لیکن جب وہ وقت آجات ہے تو

ابدنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں ٹال سکتی۔

سزا تو ہوجائے گی لیکن سوال یہ ہے کہ سزا کیا ہوگی۔ محض نااہلی یا   لوٹے ہوئے مال کی  ریکوری؟  اگر جج حضرات نے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے  نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا  فیصلہ کرہی لیا تو پھر وہ قوی دولت کو واپس لانے میں  تاخیر نہیں کریں گے۔   یہ درست   ہے کہ انگریزی محاورے کے مظابق یہ  اتنا اچھا امکان ہے کہ اسے صحیح نہیں سمجھا جاسکتا ۔ لیکن  قوم چالیس سال سے  بے بسی سے قومی اثاثوں کی لوٹ مار ریکھ رہی ہے۔ آخر اللہ تعالیٰ کو کب تک اس پر رحم نہ آئےگا۔

ان بطش ربک لشید

اگر قارئیں شرط لگا نا چاہیں تو یہ ناچیز حاضر ہے  بشرطیکہ   رقم  میری  جائیز آمدنی کے  لحاظ سے مناسب ہو!