About Muhammad Javed Iqbal Kaleem

A Reading, writing hobbyist. Like to exchange views so that informed decisions are made possible and the persistent false propaganda of the powers that be could be countered. I am a great believer in collective conscience of humanity as mankind has been bestowed with the capability to distinguish between good and bad. I am open to new views and ideas.

جماعت اسلامی کی ناکامی کے اسباب

جماعت سے لوگوں کو بڑی امیدیں تھیں کیونکہ اس کا قیام کسی فرقہ کی تعلیم یا علاقائی عصبیت کے سبب عمل میں نہیں اٰیا تھا۔ بلکہ اس کے بانی سید ابواعلیٰ مودودی کے فہم قران کے سبب وجود پذیر ہوا تھا۔ لیکن ہم جیسے سادہ لوح جس کے پرچم اٹھاتے اور جس کے جلسوں میں دریاں بچھاتے رہے
وہ اکثریتی جماعت کی خوشنودی اور اُس سے مراعات سمیٹنے میں یقین رکھتی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جماعت کے تربیت یافتہ شفیع نقی جامعی ٗ جاوید ہاشمی اور حسین حقانی برسر اقتدار جماعت کے کارکن بنے اوربلکہ فاروق مودودی تو پاکستان دشمن عوامی لیگ کی لیڈر حسینہ واجد سے پاکستان سے غداری کا انعام بھی لے آئے۔ کاش اُسے اسلام کی نمائندہ جماعت سمجھنے والے سید قطب ؒ اور سید موودی کے انجام ہی سے جان لیتے کہ جو جذبہ اور لگن سید قطب ؒ میں تھا وہ سید مودودی ؒ میں نہیں تھا جبھی قطب شہادت پاگئے اور مودودی محروم رہے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ آپا نثارفاطمہ کے صاحبزادے احسن اقبال نواز لیگ کے ایم این اے اور وزیر بنے اور انہوں نے سودی قرضوں کے ذریعے خوشحالی لانے کے ڈھونگ میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ بلکہ حسین حقانی تو آصف زرداری جیسے بے ضمیر سیاستداں کے ایجنٹ بننے اور امریکہ کے لیے پاکستان کی جاسوسی کرنے میں بھی شرم نہیں آئی۔ جماعت کی شوریٰ کے فہم ولیا قت کا بھانڈا اسی سے پھوٹتا ہے کہ اس کے ارکان سراج الحق جیسے مفاد پرست اور بے ضمیرشخص کو لیڈر منتخب کرلیتے ہیں جو عمران خان کی مخالفت کرکے نواز لیگ سے رقم بٹورتا ہے اور سپریم کورٹ میں پیسے بچانے کے لیے نا اہل وکیل مقرر کرکے عدالت کو اپنی غیر سنجید گی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔
حال ہی میں وہ جمعیت العلماء اسلام کے ایک لیڈر سے ملا اور اس کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کی درخواست کی۔ دیکھا جائے تو فرقہ وارانہ جماعتوں کو خوش کرنے اور ان کے ساتھ اتحاد قائم کرنا قرانی ہدایت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرقے بنانے سے واضح طور رپر منع فرمایا ہے اور نہ ماننے والوں کو سخت عذاب کی نوید سنائی ہے۔ کوئی فرقہ صحیح نہیں ہے بلکہ ہمارے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پسندیدہ نام مسلمین ہی درست ہے۔ کیا قران کے ترجمے اور تفسیر میں ساری عمر کھپادینے کے باوجود سید مودودی کو یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ وہ سیاسی فائدہ کے لیے نام نہاد دینی جماعتوں سے اتحاد نہ کریں بلکہ جماعت اسلامی ہونے کا حق ادا کریں ورنہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں منافق ٹھیریں گے۔
اللہ کی لعنت ہو مجیب الرحمان شامی جیسے منافق مصنفین پر جو سرا ج الحق جیسے منافق شخص کی حمایت کرتے رہے اور اس کی سادگی اور کفایت شعاری کے گن گاتے رہے۔ خدا جانے مجھے یہ خوش فہمی کیوں تھی کہ جب نچلے متوسط طبقے سے قیادت ابھرےگی تو کسی مفاد پرستی سے گریزکرے گی۔ مشرف نے جو فوجی افسروں کو نجی اداروں کی طرح پرسنل اکاءنٹ دیے تھے وہ جماعت اسلامی اور جمیعت العلماء کے رہنمائوں کو خریدنے کے لیے تھے۔ جمعت العلماء تو خیر سدا کی پاکستان دشمن تھی۔ لیکن جماعت ایک محب وطن جماعت ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی فوجی جنرلز کی آلہ کار بنی جو پاکستان سے عمدہ تنخواہ لینے کے باوجود امریکہ کے پے رول پر رہے۔ سو وہ ہمارے نہیں ہمارے دشمن کے ہمدرد ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں وہ بے ضمیراور بے غیرت رہنما نما رہزنوں سے نجات دلائے اور صرف اور صرف اپنی ذات والا صفات پر یقین رکھنے والا بنائے۔ آمین کتنے عرصے سے ہم کبھی برطانیہ کبھی امریکہ اور کبھی چین کی بر وقت امداد کی توقع کرتے رہے اور اللہ رب العزت کے اس فرمان کو قابل اعتنا ء نہ سمجھا۔
وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر
کراچی 22 جون، 17
محمد جاوید اقبال کلیم

یہ کم ہمتی و بزدلی

نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا نہ سلیقہ مجھ میں کلیم کا
میں ہلاک جادوءے سامری تو قتیل شیوہ آذری
منافقت اس قدر عام ہے کہ مغرب سب کچھ جان کربھی کچھ نہیں جانتا اور مشرق مغرب سے اس قدر مرعوب و متاثر ہے کہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ
اس میں مرد بھی بستے ہیں۔ مزے کی بات ہے جس مغربی شخص نے پنامہ لیکس کا راز عام کیا وہ کوئی مرد نہیں بلکہ ایک ہیجڑا ہے۔ پاکستان میں منافقت اس قدر عام ہے کہ چیف جسٹس ہو یا چیف آف آرمی اسٹاف دولتِ دنیا کی خاطر اپنے مقام اور مرتبے سے گرجاتے ہیں۔ انھیں نہ خدا کے غضب کا خوف رہا ہے اور نہ رسول کریم صلی اللہ کو منھ دکھانےکی فکر۔
میں نے پندرہ برس لیبر کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک لیبر کے حقوق کے مقدمات لڑے ہیں۔ میں نے بعض مسلمان ججوں کی لالچ اور بے ایمانی دیکھی ہےاور ایک عیسائی جج ڈینیئل کی دیانت داری دیکھی ہے۔
جیسے ہے نواز شریف کی جانب سے قطر کے شہزادے سے رقم لینے کا اعتراف سامنے آیا تھا۔ اسے فورا نااہل قرار دے کر جیل بھیج دینا چاہیئے تھا۔ کیوں کہ قطری شہزادے نے دولت پاکستان کی حکومت کو دی تھی نہ کہ نواز شریعف کے ذاتی اکاءونٹ کے لیے۔ اور اگر یہ رقم نواز شریف کو ذاتی طور پر دی گئی تھی تو یقیناً یہ ایک رشوت تھی جس کے سبب اسے فورا نااہل قرار دے کر گرفتار کیا جانا چاہیئے تھا۔ مگر پانچ سینیئر اور مقتدر جج یہ فیصلہ نہ کرسکے۔ کسی کو میاں نواز شریف سے دوستی یاد آگئی اور کسی کو اس کی دولت نے باز رکھا۔ عمران خان کے وکلاء کو برقت یہ بات نہیں سوجھی۔ اس طرح وہ مقدمہ جیتنے کا ایک نادر مقوقع گنوا بیٹھے۔
سوچ تو دل روتا ہے کہ ان کے ہیجڑے ہمارے مردوں سے زیادہ حوصلہ رکھتے ہیں۔ اور ہمارے اہل اقتدار میں خواہ وہ سیاستداں ہوں یا جج یا فوجی جنرل ایک مرد کی جراءت و ہمت نہیں ہے۔ حالانکہ اقبال بتا گئے ہیں کہ
آئین جوان مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔
کراچی 11 جون 2017 محمد جاوید اقبال کلیم

یہ ملعون میڈیا

قوم صوم نماز روزے اور تراویح میں مصروف ہے۔لیکن یہ ملعون میڈیا اور اخبار سوفی صد اپنے یہودی مالکوں کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ اور ایک آدھ ہی استثنا نظر آتا ہے۔ افطار کے وقت کے انتظار مین ڈاکٹر شاہد مسعود کی ہفوات سن رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا پاکستان میں جو بھی اقتدار سے محروم ہو ا وہ یا مارا گیا یا ذلیل و خوار ہوا اور وہ اسکندر مرزا اور شہید ملت لیاقت علی خاں کو اس ضمن میں مثال کے طور پر پیش کررہا تھا۔ اس مردود سے نہ ہوا کہ امریکی حکومت کی دخل اندازی اور شہید ملت اور ضیاء الحق کے قتل کی زمہ داری امریکہ پر رکھتا اور بے نظیر کی شہادت کا ذمہ دار بھی امریکہ کو قرار دیتا ۔ کیوں کہ یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ امریکہ پاکستانی حکومتوں میں مداخلت کرتا آیا ہے اور اس نے کئی حکمرانوں کو قتل کیا ہے۔
صاف نظر آتا ہے کہ ہمارے اینکر منافق ہیں اور جو زیادہ معاوضہ دے اس کے ایجنٹ۔ ظاہر ہےکہ یہودی بینکوں سے زیادہ معاوضہ کون دے سکتا ہے۔
ڈاکٹر شاہد مسعود بھی ایسا منافق ہے اور امریکہ کی پاکستانی سیاست میں مداخلت کو چھپانا چاہتا ہے۔ یہ وہی ڈرامہ باز ہے جو ایک طرف اختتام وقت قریب ہونے پر پروگرام کرتا ہے اور دوسری جانب زرداری کے بلانے پر پی ٹی وی کا سبراہ بن جاتاہے۔

اایسےہی بے ضمیر اینکرس ہمارے عقل و شعور پر بچھو بن کر مسلط ہیںامریکہ میں رہ کر پاکستانی اخبار میں کالم لکھنے والی ایک مخلوط عورت نے لکھا ہے کہ پاکستانی جنرل سوچتے ہیں کہ وہ پاکستان کے لیے کیوں لڑیں ۔کیوں کہ جب پاکستان میں لال مسجد والے مولوی عبدالعزیز فوجی افسروں کو مارنے کے باوجود
آج بھی عزت سے دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن مسجد پر کیمائی ہتیاروں سے حملہ کرنے والے اب بھی واجب التعظیم سمجھے جاتے ہیں۔ کاش کوئی اسے بتاتا کہ جنرل تو ویسے ہی امریکہ سے ملنے والی تنخواہ کے لیے لڑتے ہیں۔ یہ تو عام فوجی ہیں یا جونئیر افسر جو اللہ کی رضا کے لیے جنگ کرتے ہیں۔ اللہ تعالی دین حق کے لیے لڑنے والوں کو فتح و کامرانی عطا فرمائے۔ آمین۔

رمضان المبارک پر حضور نبی کریم صلی اللہ علی وسلم کا وعظ

Alhamduli’Allahi Rabbil-‘Aalameen
wa-Salaatu wa-Salaamu ‘alaa Ashrafil-Anbiyaa-e-wal-Mursaleen~ `Amma `Baa`d.

‘Assalaamu `Alaykum wa Rahmatullaahi wa Barakaatuhu’

*Virtues  Of  The  Month  Of  Ramadhaan*

*PROPHET*~[Sallallaahu `Alaihi wa Sallam]~ 
  First   Khutbah… !

‘O Muslims… Fear Allaah and Obey Him !~
 
I give you glad tidings as the month of ‘Ramadaan’
 is approaching…
 This is the month in which the ‘Qur’aan’ was revealed
as a guidance for mankind, as well as a clarification and differentiation between truth and falsehood !

During this month, the Gates of Mercy are opened 
and the gates of hell are sealed.

Satan and all other Jinn are chained during this blessed month…Rewards for good deeds performed in this month 
are multiplied, sins forgiven and supplications responded 
to and answered.
It is the month of Perseverance, Mercy, 
Compassion and Charity.

Salmaan Al-Faarisi ~ 
[may Allaah be pleased with him] reported that…

 Prophet ~[sallallaahu `Alaihi wa sallam]
gave a speech on the last day of ‘Sha’baan’, and said…
"O people !
You are being approached by a great and blessed month.
 A month which contains a Night that is better than
 One Thousand  [1000]  months !
 
Allaah made fasting within it an obligation,
and made praying on that night an optional 
act of worship.
 
he who performs any righteous voluntary act within it, 
will be rewarded like one who doesan obligatory act at any time other than during ‘Ramadaan’…{!}
 
‘he who performs an obligatory act of worship within it will 
be rewarded like he who performs Seventy~[70] acts of worship at any time outside this month !
 [‘Alhamdullilah’ !]
 

It is the month of Perseverance -and 
perseverance is rewarded with ‘Jannah’~{Paradise}!
 
It is the month of Compassion,
in which the sustenance of a believer increases !
 
"he who feeds a fasting person within this month has his sins forgiven and he will be protected and released from the hell fire… he also gets the reward of that person’s fasting without decreasing the reward of the fasting person.”

Then the companions~
[may Allaah be pleased with them] said…

‘O messenger of Allaah ! Not all of us can find the extra food needed to feed another fasting person’.

So the Prophet [Sallallaahu ‘Alaihi wa Sallam] responded:
 
‘Allaah will give you the reward of feeding a fasting person even if you were to give him just a sip of milk,
…a date, or a sip of water…{!}

He who feeds a fasting person until he is full,
Allaah will make him drink out of my river, a sip of which will never allow him to be thirsty until he enters ‘Jannah’…!’

Then he continued…
‘This is the month the beginning of which is Mercy,
the middle part is Forgiveness…
and the last part of it is Release from Hellfire.’

(Source: Al-Bayhaqi).

"So, pay attention, may Allaah be merciful to you all”
 ‘Pay attention !
O believers, to the speech of the Prophet
{Sallallaahu `Alaihi wa Sallam }

in which he gave glad tidings of the month of ‘Ramadaan’ to his companions and informed them of its virtues and how the reward of righteous deeds performed therein is multiplied.
Indeed, it is a great and blessed month…!
 
The Prophet [Sallallaahu `Alaihi wa Sallam ] said..

referring to the month of Ramadaan~

"Never has a better month arrived
for the believers and never has a worse month come
to pass for the hypocrites.”

بندہ ہے کوچہ گرد ابھی خواجہ بلند بام آبھی

کل بینک سے رقم نکلوا کر لوٹ رہا تھا۔ وہیں ایک فری ریستوراں بھی ہے جہاں غریبوں کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ سڑک زیر تعمیر تھی اور وہاں مٹی کا ایک ڈھیر جمع تھا۔ میں نے دیکھا پانچ چھے سال کا ایک بچہ دوڑتا ہوا آتا اورمٹی پر کود جاتا۔ کبھی کبھی وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتا۔ مجھے وہ بچہ اچھا لگا میں نے پوچھا بیٹے آپ نے ناشتہ کرلیا۔ نہیں اپنی باری کا انتظار کررہا ہوں۔ اس نے ریستوراں کی جانب اشارہ کیا جہاں غریبوں کو مفت کھانا دیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ایک وقت صرف دو لوگ آئیں۔۔ مجھے اس کی معصومیت اور سرخوشی اچھی لگی۔ میں نے سوچا جب تک انقلاب نہیں آتا ہمارے بچے اسی طرح رُلتے رہیں گے۔
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زند گی روح امم کی حیات کش مکش انقلاب
اس بچے کو تو میں نے پراٹھا دلادیا ۔ وہ اسی پر خوش ہوگیا۔ اور یہ بھی نہ سوچاوہ کس سے کھاـءوں گا؟ لیکن میں سوچنے لگا کہ قومی وساءل کا ایک تہائی تو سود کی ادائیگی میں لگ جاتا ہے۔ نصف فوج کھاجاتی ہے۔ باقی کرپٹ حکمراں کھاجاتے ہیں۔ عوام بے چارے کیا کریں؟پاکستان کے قیام کو ستر برس ہوچکے ہیں۔ پھر بھی ہمارے عوام ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔
بندہ ہے کوچہ گرد ابھی خواجہ ہے بلندبام ابھی عشق گرہ کشا کا فیض نہیں ہے عام ابھی

صبروضبط کی بھی حدہوتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بستی میں لوگ غربت کے سبب بھوکے سوجائیں اس پرسے اللہ کی حفاظت ہٹالی جاتی ہے۔ اللہ نے کچھ لوگوں کو زیادہ رزق اس لیے دیا ہے کہ وہ ان کی آزماءش کرنا چاہتا ہے کہ وہ اس میں سے غرباء و محروم افراد کا حق نکالتے ہیں یا نہیں۔ کم ہی لوگ اس ٓآزمءش پر پورے اترتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ نے ضمانت دی ہے کہ صدقہ کا کم ازکم دس گنا دنیا میں واپس کیا جاتا ہے اور ٓآخرت میں کم از کم سترگنا اس کا ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ افسوس مولوی صدقہ خیرات کی طرف کم ہی لوگوں کی توجہ مبذول کراتے ہیں۔ زیادہ زور رسومات عبادات پر ہے۔ حقوق العباد کی بات کوئی نہیں کرتا۔ کیوںکہ یہ علم اگر عام ہوجائے تو عوام کبھی کرپٹ حکومتیں برداشت نہ کریں۔ یہاں تو طارق جمیل فضاءل اعمال کے نام پر ضعیف حدیثیں سناکر لوگوں کا وقت ضاءع کرتا رہتا ہے۔ اور حکومت کی خرابی کو عوام کے اعمال کی خرابی سبب قرار دیتا ہے۔ اس ضمن میں حکومت اسے مفت حج اور دس لاکھ روپئے کی رشوت دیتی ہے۔ ایسے ہی بد نہاد مولوی قوم کی بدنصیبی کا باعث بنے ہوئے ہیں

Short sightedness of Ummate Muslimah

امت کی بے بصیرتی
متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی یہ کس کافرادا کاغمزہ خون ریز ہے ساقی
بالعین جیسا اقبال کی چشم پیش بیں نے دیکھاتھا عالم اسلام کے رہنما مل کر کفرضلالت کے سرغنہ امریکہ کو اپنی دولت اوروسائل سے مالامال کررہے ہیں۔ سعودی عرب اربوں ڈالر ضائع کرکے امریکہ کا فرسودہ اور بے کار اسلحہ خریدرہا ہے اور ایران امریکی اشارے پر سعودی عرب کے لیے خطرہ بن گیا ہے ۔ اس کی منافقت اس حقیقت سے واضح ہے کہ وہ شام میں علویوں کی کافر حکومت کی مدد کے لیے فوجی اور مادی مدد کررہا ہے اور روس کی بے دین و کافر حکومت اس کی مدد میں مظلوم مسلمانوں پر بم برسارہی ہے۔ اللہ ہی ہے جو شام کے ولی صفت مسلمانوں کی مددفرمائے۔کیوں کہ سعودیوں کا توکل اللہ پر نہیں ہے وہ اپنی حفاظت کے لیے امریکہ کو رشوت دے رہا ہے۔ جبکہ ایران لبیک یا مہدی کہہ کر یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ امام مہدی کی نمائندگی کررہاہے۔حالانکہ شام کے ولی صفت مسلمانوں پرنہ صرف وہ بمباری کررہا ہے بلکہ روس سے بھی مسلمانوں پر بم برسارہا ہے جن کا واحد قصور صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کی وحدانیت میں یقین رکھتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشار الاسد کے قبیلے کا نام تک بتادیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کرے گا۔ اللہ کا احسان ہے کہ ہم اندھیروں میں نہیں ہیں بلکہ واضح طور پر بُرے اور بھلے کو پہچان رہے ہیں۔اقبالؒ نے صاف صاف بتادیا ہے:
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار وہی مہدی وہی آخر زمانی
یعنی ہمیں حضرت امام مہدی کے انتظار میں نہیں بیٹھے رہنا چاہیئے بلکہ جو بن پڑے مظلوم مسلمانوں کے لیے کرنا چاہیئے۔ خواہ وہ دعا یا معمولی مالی امداد ہی کیوں نہ ہو۔ اس آخری دور میں صبر ہی ہمارا طرزعمل ہونا چاہیئے کیوں کہ دنیا کی کوئی طاقت رب تعالیٰ کو شکست نہیں دے سکتی۔ اللہ رب العزت نے دوسری ہی سورت میں صاف صاف بتادیا ہے:
وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر۔
(اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے نہ مددگار)
کرنے کا اصل کام تو یہ ہوتا کہ عالم اسلام متحد ہوکر عالم کفر کے سامنے ڈٹ جاتا جیسے افغان اور شامی مسلمان ڈٹ گئے۔ لیکن قیادت کا فقدان اس لائحہ عمل کی راہ میں مزاحم ہے ۔ لہذا ہم صبرسے کام لے کرہی اس مصیبت کو ٹال سکتے ہیں۔ البتہ مسلمان قوم کو آگہی فراہم کرنا ہمارا فریضہ ہونا چاہیئے۔اگر ہم امت مسلمہ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا قائل کرسکے تو ہم زوال امت کو کسی نہ کسی حد تک ٹال سکتے ہیں۔ البتہ اگر ہم نے قوم کو تبلیغی نصاب کی رسوماتِ عبادت پر چھوڑدیا توامت مسلمہ کے سنبھلنے کا کوئی چانس نہ رہ جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ انگریز نے اپنے دور میں تبلیغی جماعت اورقادیانی جماعت کی داغ بیل رکھی تاکہ مسلمان بھی جہاد کا خیال بھی دل میں نہ لاسکیں اور ہندوستان پر ان کی حکومت ہمیشہ قائم رکھی جاسکے۔ وہ تو اللہ بھلا کرے علامہ اقبال کا جن کی کوششوں سے دیوبندی منافقت اور ابوالکلام کی گاندھی کے ساتھ مل کرکی گئی سازشوں کا راز بے نقاب ہوا اور قیامِ پاکستان ممکن ہوا۔

خون مسلم کی ارزانی

غم کے طوفاں سے ستلج کے کنارے بے تاب ایک سیاہی سی رخ خورشید پہ پھرنے کے قریب
چاند خود اپنی جگہ ٹوٹ کے گرنے کے قریب

یہ ایک بھولی بسیری نظم کے اشعار ہیں جو 1947 میں مسلم لہو کی ارزانی کے بارے میں کہے گئے تھے۔ کتنے لوگوں نے انھیں فراموش کردیا لیکن بعض درد آشنا دل انیھں نہ بھلا سکے۔
ان کا پلان انگریز حکمرانون نے بنایا تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے اس کا نفاذ کیا تھا۔ اور سکھوں اور ہندءوں نے ان کو عملی جامہ پہنیا یا تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے ابوالکلام آزاد اور حسین احمد مدنی نے قومی غداروں کارول ادا کیا تھا۔ ان مردودووں کو خدا کا ذرا خوف نہ تھا
اور قہر تو یہ ہے کہ ان کے چیلے چپاٹے ہی اج کے نام نہاد علماء کے سرخیل بنے ہوئے ہیں۔شرمو حیا تو انھیں چھوکر نہیں گذری جو خود اپنی غلطی کا اعتررف کرکے کنارہ کش ہوجاے۔
آج بھی حسین احمد مدنی اور ابوالکلام کے تابعیں وطن عزیز میں وافر مقدار میں مل جاتے ہیں۔۔
اللہ انھیں قرار واقعی سزا عطا فرمائے۔
نظم کی کتابوں کے علاوہ دردمند دل رکھنے والے انساںون نے ” جب امرتسر جل رہا تھا” جیسی کتابیں لکھیں اور نئی نسل کو احساس دلایا کہ کتنی قربانیوں کے بعد وطن عزیز آزادی کی نعمت سے سفراز ہوا۔ بھارتی حکومت بھارتی مسلمانوں سے نئی تاریخ لکھوا رہی ہے اور عظیم مسلم فاتحین کی کردار کشی کررہی ہے۔ کل ہی میں نے ایک بھارتی رائیٹر سے احمد شاہ ابدالی ؒ کے کردار کے بارے میں ہرزہ سرائی دیکھی۔ وہ عظیم مجاہد جو صف 45 ہزار کی فوج سے مرہٹوں کے نو لاکھ کے لشکر کو خاک چٹا چکا تھا اسے لالچی اور بد کردار دکھایا گیا۔
بھارت جانتا ہے جب تک مسلمان اللہ کے حکم پر چلتے رہیں گے۔ کامیابی ان کے ہمراہ رہے گی۔ اسی لیے وہ اپنی مکارانہ چالوں سے باز نہیں آریاہے۔