About Muhammad Javed Iqbal Kaleem

A Reading, writing hobbyist. Like to exchange views so that informed decisions are made possible and the persistent false propaganda of the powers that be could be countered. I am a great believer in collective conscience of humanity as mankind has been bestowed with the capability to distinguish between good and bad. I am open to new views and ideas.

2006 کا ذکر ہے   کسی لڑکی نے جو  قصور کی رہنے والی تھی جنگ کے سینیر ایڈیٹر  ارشاد   احمد  حقانی  کو خط لکھا کہ اس کی عزت کو کسی با اثر آدمی  سے خطرہ  لاحق ہے۔اور فوری توجہ پر  زور دیتے ہوئے یہ شعر  لکھا:ہم   نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن ۔۔۔۔ خاک ہوجائیں گے ہم  تم کو  خبر ہونے تک۔۔  ارشاد احمد حقانی نے کسی ذمہدار افسر سے رابطہ کیا۔  لیکن  جنگ نے حکومت کی مکھن بازی ترک نہ کی۔ اگر اسی وقت   نا اہل پولس افسروں کو ہٹانے کی

ہیم چلائی جاتی تو حالات اس قدر خراب نہ ہوتے۔  پولس کی  ریکروٹمنٹ سیاستدانوں کے ہاتھ میں آجانے سے  نا اہل اور کرپٹ پولس بھرتی ہوتی ہے اور  ظالم  قاتلوں کو کھلی چھوٹ ملجاتی ہے۔  امیر ہر  سزا سے بچ  نکلتے ہیں۔ اس  صورتحال  کی ذمہ داری   عدالت عظمی ٰ پر بھی   عائد ہوتی ہے جہاں انصاف کے حصول میں برسہابرس  لگ جاتے ہیں اور جج حضرات  فل کورٹ ریفرنسز میں وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ میں نے  جنگ میں بطور کالم نگار کئی بار لکھا کہ  عدلیہ کو  مقدمات کے انبار سے نکلنے کے لیے  دو یا تین  شفٹون میں کام کرنا چاہیئے ۔ لیکن   غریب  جیلوں میں جرم بے گناہی کی سزا بھگتے رہتے ہیں اور امیر  کچھ  کردیں۔  ان کے وکیل  انہیں سزا    سے  بچالیتےیںی

برطانیہ  کا  یہ فرسودہ اور ناکارہ  سسٹم اب ختم ہوجانا  چاہیئے تھا ۔ لیکن برطانیہ  اور امریکہ کے پٹھو حکمراں   ایسا  ہونے نہیں دیتے ۔ دینی جماعتیں بھی اس   قدر گمراہ اور لالچی ہوچکی ہیں کہ   شرعی   سزاءوں کے نفاز کے لیے  جد و جہد  نہیں کرتیں۔ اب بھی  موقع ہے   کہ   تمام  دینی جماعتیں  متحد ہو کر  شریعت کے نفاز کے لیے  جدو جہد کریں۔  سورہ ابراہیم میں اللہ  ۔ ککاش ہمتعالیٰ کا  فرمان ہے کہ اے  اہل کتاب تم کسی چیز پر نہیں ہو جب تک اپنے  ضابطہ اخلاق کو اپنی زمین  پر نافذ نہ کرو

پاکستان کو اسلام کے نام پر قائم  ہوئے ستر برس ہوگئے ہیں اور ابھی تک  اس  کے حکمرانوں کو  شرعیت  نا فذ کرنے کی توفیق نہیں ہوسکی ہے۔ کاش  ہمارے نوجواں اپنی ذمہ  داری محسوس کریں اور اٹھ کر  پاکستان کے فرسودہ   شیع یہبرطانوی  قانون کو  محمد مصطفےٰ کے لائے ہوئے شرعی نطام   سے  تبدیل کرسکیں

شریعت کا  نفاذ فرض عین بن چکا ہے  اب بھی اس  سے گریز  کیا گیا تو معاشرہ  درندوں کا جنگل   بن جائے گا۔

کراچی    13 جنوری 2018

محمد جاوید اقبال کلیم۔

Advertisements

Result of non implementation of Shariah Law

 

ستر برس ہوچکے  لیکن ابھی تک شریعدت کا نفاز ٹلتا رہے ہے کیوں کہ   پاکستانی حکمرانوں کے امریکی آقا  اسے  ۔ پسند نہیں کرتے۔  ان احمقوں کو اندازہ نہیں کہ  اللہ تعالیٰ  شرعی  قانون نافذ نہ کرنے پر کتنا  غصبناک ہوتا

ہے۔ کلام پاک میں فرمان ہے کہ اے یہود و نصاریٰ تم کسی چیز پر نہیں ہو جب تک تم توریت اور انجیل کے ضابطہ ء قانون کو  نافذ نہ کر دکھاءو۔   جماعت اسلامی  جو نفاذَ شریعت کی دعوت لے کر اُٹھی تھی  زبانی  کلامی    بیانا ت جاری کرنے کے سوا کچھ نہ کرسکی۔ خود اس کی قیادت میں فضل اللہ جیسے مخلص رہنما تھے  ) سا بق امیرجماعت اسلامی  سوات) کو حکومت کی سزا کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا۔  کاش جماعت میں غیرت و حمیت کی کوئی رمق باقی ہوتی تو وہ  اس وقت تک خاموش نہیں ہوتی  جب تک پاکستان کی حدود میں شرعی قانون نا فذ نہ ہوجاتا

سچ ہے کہ   غیور شخص ایک بار مرتا ہے اور بے غیرت بار بار۔   مصر میں  اخوان المسلمین نے  شریعت کےلیے سر

ڈھر کی باازی  لگادی۔ اس لیے کہ وہ اہل زبان  ہونے کے ناظے  دین کے تقاضون سے  آگاہ تھے۔ کے امیر  حسن البناء  بیس برسوں تک جیل میں محبوس رہے اور جب اپنے مطالبے سے باز نہ آئے تو انھیں  سولی دیدی گئی۔ کاش  لیکن  سید مودودی  کے بعد    حکومت سے مفاہمت کرنے   والے بے حمیت   امیر  مقرر ہونے لگے ۔ حتیٰ کہ  جماعت  کی امارت  سراج الحق جیسے  دولت کے بھوکے شخص کے  ہاتھ لگی۔  اگر  شریعت نافذ ہوجاتی تو  آسمان سے اللہ کی رحمت  برستی اور  امریکہ کی دھمکیاں دھری کی دھری رہ جاتین کیونکہ   اللہ جسے ساتھ ہو اسے کوئ  شکست نہیں دے سکتا۔

معاشرے کی تباہی کا  اہم  سبب بھارتی  فلموں اور ڈراموں کی  پاکستانی  سنیما گھروں اور کیبل پر نمائش ہے۔ بھارت میں جنسی جرائم  جس طرح عام ہیں حتیٰ کہ  ٹرینوں اور  بسوں میں  خواتین پر  جنسی حملے ہوتے ہیں اس کا  سبب اُس کی  فلموں کی بے حیائی اور   بے راہ روی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلم معاشرے میں فحاشی اور عریانی  پھیلانے کو  بدترین مجرم قرار دیا ہے۔ لیکن وطن عزیز میں نہ تو حکومت، نہ بیوروکریسی اور نہ جنرلز کو  قوم کی اخلاقی  اقدار کی حفاطت کا  شعور ہے اور نہ  میڈیا میں کوئی  حمیت رہگئی ہے۔

کاش ہماری  نوجوان  نسل کو غیرت آئے اور وہ  شریعت کے قاانون کو نافذ کیئے بغیر چین سے نہ  بیٹھے۔

 

کراچی  11  جنوری 2018

محمد جاوید اقبال کلیم

 

 

سچوں کے ساتھ ہوجاءو۔۔۔ کونو مع الصادقین

 سورہ توبہ میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے: کونو مع الصادقین۔ یعنی سچوں کے ساتھ ہوجاءو۔   صرف مسلمان سچے ہیں  ےس ایک سچے رب پرایمان لائے ہیں اور ان کے رسول   صلی اللہ علیہ و سلم آخری رسول ہیںاس لیلےغیرمسلم ملکوں میں رہائش اختیار حاصل کرنا حکم ربانی کی خلاف ورزی  ہے۔ میں نے اپنے  کئی دوستوں کو جو امریکہےکینڈا  یا آسٹریلیا  یا  برطانیہ میں مقیم ہیں بار بار بتایا کہ انھیں  تعمیل حکم کرتے ہوئے کسی مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنا چاہیئے۔ میں کہتا رہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ  غیر مسلم ہمیشہ امیر رہیں گے اور  مسلمان ہمیشہ غریب۔ لہذا انھیں اللہ تعالیٰ  پر بھروسہ کرتے ہوئے  پاکستان یا کسی اور مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنا چاہیئے۔ لیکن جیسا کہ   رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و سلم  نے پیشن گوئی فرمائی ہے کہ آخری دور کے مسلمان  دنیاوی دولت کے اس قدر شائق ہو جائیں گے کہ   جائز اور نا جائز دیکھے بغیر دولت کے حصول میں لگ جائیں گے۔ اس لیے وہ   بظاہر خوشحال لیکن حقیقتاً کھوکھلے عیسائی کہلانے والے ممالک میں سکونت  اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اور اپنے مسلم ممالک کو چھوڑ دیا ہے۔

بھائیو اور بہنو!   اللہ کے لیے  عقل  وہشعور سے کام لو اور مسلم ممالک میں سکونت آختیار کرلو۔ دجال کے نکنے کا  وقت قریب ہے۔ غیر مسلم معاشرے  جرائم سے بھرے ہوے ہیں۔ اس وقت  دنیا میں سب  سے زیادہ جرائم   امریکہ میں ہورہے ہیں پھر بھارت اور برطنیہ میں۔  لہزا عقل کے ناخن لواور اپنے وطن میں لوٹ آئو

پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ تھی!

کراچی 3 جنوری  2018                                          محمد جاوید اقبال کلیم

 

اپنی کتاب اپنی زمین پر نافذ کرنا لازم ہے

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّىَ تُقِيمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا فَلاَ تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ

اللہ تعالیٰ نے  یہود و نصاریٰ سے فرمایا ہے کہ  تمہارے ایمان کی کوئی  وقعت نہیں ہے جب تک تم اپنی کتاب  کو اپنی زیر  تسلط زمین پر نا فذ نہ کردکھاءو۔  ہمارا آج کا المیہ یہی ہے کہ  ہم بجائے قران کو نافذ کرنے کے اس کی تلاوت کو کافی   لیتے ہیں۔ اور ہمارے زوال کی وجہ یہی ہے کہ ہم قران کو سچ مانتے ہوئے بھی اس پر عمل نہیں کرتے۔  انفرادی

نیکی بے معنی ہے جب تک قوم کا اجتماعی  شعور اسے قران کی ہر ہدایت پر عمل کرنے کا پابند نہیں کرتا۔ ذکر تو  آسمان کے پرندے اورسمندر کی مچھلیاں بھی کرتی ہیں۔  انسان کو جو ذکر  عطا  کیا گیا  ہے و قران  مجید ہے  جس کے متعلق   اللہ  تعالیٰ نے فرمایا کہ  ہم ہی نے ذکر نازل فرمایا اورہم  ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ اشرف المخلوقات

کی حیثیت سے ہمارا فریضہ قران  سمجھ کر پڑھنا اور اسے نافذ کرنا ہے۔ اس  کے ذریعے  نہ  صرف  معشرے میں امن و سکون پیدا ہوگا بلکہ  معاشی خوشحالی بھی آئے گی۔  تعلیم یافتہ اور با شعور ہونے کے سبب  ہمیں چاہیئے کہ   صرف سچ بولیں اور سچوں کا  ساتھ دیں۔ جیسا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اے ایمان لانے والو سچوں کے ساتھ ہوجاءو۔  ہم   برما    لیبیا      فاشام عراق لیبیا  افغانستان  اور  یمن میں مسلمانوں کا قتل عام دیکھ چکے ہیں اور  نائیجیریا اور صومالیہ میں مسلمانوں  ۔کو فاقے کرتے اور پیاس سے ترستے دیکھا ہے۔  ہم  دودھ کے دھلے ہوئے نہیں ہیں کہ ہم پر

عذاب نہ آئے۔ ہمیں  غریب بھائی بہنوں کی مدد کرنی چاہیئے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا چاہیئے اور  نیکی کا حکم دینا چاہیئے اور برائی سے  روکنا چاہیئے۔ اگر ہم قران کو  نافذ اور  غالب نہ کرسکے تو

ہماری داستان بھی نہ ہوگی داشتانوں میں۔

کراچی   11 نومبر  2017                                                                                                  محمد جاوید اقبال

کون کہتا ہےاب معجزے نہیں ہوتے

کوئی آٹھ دس سال پہلے کی بات ہے میری ملاقات فصیح صاحب سے ہوئی۔ وہ کمیونسٹ تھےاور اللہ پر یقین نہ رکھتے تھے۔ ایوب دور میں انھیں گرفتار کیا گیا۔ ان کو تنگ کرنے کے لیے دن میں بھوکا رکھا جاتا اور پھر رات کو جب وہ بھوکے ہوتے تو پیٹ بھر کے کھانا کھلایا جاتا۔ انہیں نیند آنے لگتی تو سونے نہ دیا جاتا۔ تاکہ وہ اپنے کمیونسٹ ہونے کا اعتراف کرلیں۔ لیکن وہ بھوکے رہنے کو ترجیح دیتے۔ پھر انھیں سزا ہوئی اور کئی برس جیل میں رہے۔
وقت گذرتا رہا۔ تا آنکہ امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کی مدد سے سویت یونین کو شکست دیدی۔ فصیح صاحب بہت دل شکستہ ہوئے۔ ان کی آمدنی کا ذریعہ چھن گیا۔ناچار وہ کسی ہوٹل کے بکنگ کلرک کی حیثیت سے خلیج چلے گئے۔
لیکن چند برس ہی جاب کی ہوگی کہ انھیں کینسر ہوگیا۔ ناچار پاکستان آئے۔ تو بیوی نے جو مسلماں تھیں انھیں بتایا کہ حکیم سعید صاحب نے کینسر کا علاج تلاش کرلیا ہے اور عام سی جڑی بوٹیوں سے علاج کرتے ہیں۔ انھیں یقین نہ آیا۔ لیکن کوشش کردیکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔ لہذا حکیم سعید صاحب کو دکھانا شروع کیا ۔وہ یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ حکیم صاحب محض نیم کے پتوں سے کینسر کا علاج کرتے ہیں۔ اور چند ہی ماہ
ےامیں وہ صحتیاب ہوگئ
س کے بعد کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ پھر سے مسلماں نہ ہوجاتے۔

آخری دور میں کیسے جیئیں؟

اللہ تعالی ٰ  کا لاکھ  شکر ہے کہ  اس نے تا قیامت پیش  آنے والے واقعات کے متعلق  واضح ہدایات عطا  فرمادیں اور  ان قوموں کے حشر سے بھی آگاہ فرمادیا  جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی حکم  عدولی کی۔  آللہ تعالیٰ نے ہمیں فرقے بنانے سے منع فرمایا۔ لیکن اس حکم کی واضح نافرمانی کرتے ہوئے ہر مولوی اپنے  فرقے کو درست اور باقی سب کو  غلط قرار دیتا ہے۔ حتی ٰٰ کہ   فقہ  کے عالم جو  امام کہلاتے ہیں ان کی برتری بر بھی  آنکھیں بند  کرکے یقین کرتے ہیں۔  کاش وہ جانتے کہ اللہ نے خود غور و فکر کرکے فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔اسلام کا کوئی حکم  عقل و منطق سے عاری نہیں ہے۔ کوئی ایسی ہدایت نہیں جس کی پیروی  کرنےمیں عقل وخرد کا  استعمال نہ ہو۔ لیکن ہمارے مولوی  نفرتیں ابھار کر  مسلمانوں کو آپس میں لڑاتے رہے ہیں۔حالانکہ  غور و تدبر سے سارے مسائل حل کیئے جاسکتے تھے۔

مثلا  سانحہ کربلا ہی کو لے لیں۔ اس پر خواہ مخواہ  ہی فرقے بن گئے۔ حالانکہ  امام حسین رضی اللہ عنہ کی محبت  شیعہ اور سنی کا  مشترکہ سرمایہ ہے۔  اللہ جسے چاہے اقتدار عطا فرماتا۔ اگر اُس  ذات بے نیاز نے  ابوبکر اور عمر   رضٰی اللہ عنہم کو پہلے خلافت عطا کی تو  یہ اس کی مرضی تھی۔  اس نے واضح طور پر بتادیا ہے:

کہو اے اللہ ملک کے مالک توجسے چاہے ملک عطا فرمائے اور  jجس سے چاہیے  چھین لے۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ اللہ حضرت ابو بکر اور حجرت عمر  کی صلاحیتوں سے امت کو فائید ہ پہنچانا چاہتا تھا۔ اور اس لیے حضرت علی سے پہلے انھیں خلافت دی گئی۔  رہے قاتلان حسین  معاویہ و یزید وہ دونوں دشمن اسلام بن گئے تھے کیوں کہ یہودیونے انہیں جتایا تھا کہ جب تک  علی  رضی اللہ  عنہ کی اولاد  زندہ ہے  اس کی ملوکیت  غیر مستحکم رہے گی۔  اس لیے معاویہ اور یزید   دشمنان دین تھے۔ کیوں کہ  رسولَ مقبول  صلی اللہ علیہ   سلم  کی بعثت کا ایک مقصد زمین پر خلافت کا قیام تھا۔  معاویہ نے اس کو ختم کرکے  ملوکیت کی بنیاد  ڈالی۔ اس لیے اس کی حمایت صریحا اسلام س ے غداری ہے۔   اس کو     صحابی کہہ کر بچایا نہیں جا سکتا۔ کیوںکہ اس طرح تو عبداللہ ابن ابی بھی صحابی تھا مگر اندر سے کفار سے ملا ہوا تھا۔

دوسری غلطی علماء سے یہ ہوئی کہ انہوں نے  آپس میں بات کرکے تنازعہ ختم کرنے کے بجائے  دوسرے فرقے کو کافر قرار دے کر اس سے منھ موڑلیا۔ حالانکہ  اللہ نے فرقے بندی سے منع فرمایا تھا۔ کاش  مشترکہ امور پر صلح کرکے فرقہ بندی کا دروازہ  بند کریدا جاتا۔ آج امت کی جو رسوائی اور بے بسی ہے اس کی نوبت نہ آتی۔ تین ساڑھے تین کڑور یہودی  پونے دو ارب مسلمانوں کا  قتل عام کررہے ہین۔ اور مسلمان بھیڑ بکری کی طرح کاٹے جارہے ہیں۔ عوام تو عوام خواص بھی اس کا تدارک نہیں کررہے۔

اللہ قیامت میں  ضرور پوچھے گا کہ جب میرے بندے مارے  جارہے تھے اس وقت تم  کیا کررہے تھے؟  جسے یقین نہ آئے سورہ نساء کی 75 ویں آیت دیکھ لے۔ وما علینا الا البلاغ۔

محمد جاوید اقبال کلیم

کراچی  28  اکتوبر  2017

 

 

 

 

 

 

اسل

Double Standard of Powers that be

:
The Victims of Pure State-Terrorism

Dr. Firoz Mahboob Kamal
http://www.drfirozmahboobkamal.com/english-articles/1231-the-rohingya-muslims-the-victims-of-pure-state-terrorism-.html

The pure evil of state-terrorism
Double standard has become the most established norm in world politics; one rule for the Muslims and another rule for the non-Muslims is now visible everywhere. If a terrorist attack takes place in a western city by a Muslim, the western governments, the European Union, the media outfits, even the UN Security Council, spare no time to condemn it. The US President Donald Trump quickly grabs it as an opportunity to express anger and hatred against Islam. Such condemnation by the western leaders is very selective -only to promote their anti-Muslim bias and animosity. Because of such hateful mind-set, any act of terrorism even by a lone Muslim bomber –without any involvement of any Muslim state or institution, is labelled as Islamic terrorism. Thus, Islam –the religion of 1.6 billion Muslims gets vilified. But such condemnation doesn’t happen if the Muslims become the target of non-Muslim terrorists.

The Islamophobic media of both the eastern and the western world have been very successful to hide the truth that the worst and the most barbaric acts of terrorism is not taking place in any of the western cities or villages. Nor by any Muslim state, group or individual. Whereas, it is an everyday crime against the Muslims in villages and cities in Myanmar, Syria, Iraq, Palestine, Kashmir, Mindanao, Xinjiang, Chechnya, Mali and many other parts of the Muslim World. Moreover, the crimes are not committed by any sleeping cell terrorists; nor by any knife or home-made bomb. It is the work of massive military might of the occupying countries like US, Russia, Israel, India and China. The deaths and destructions caused by the sleeping cell terrorists are indeed peanut in comparison to that caused by these state-run terrorists. Bombs, drones, barrel bombs, depleted uranium bombs and missiles work as the effective killing machines in the hands of these state-owned killers.

The destruction of Grozny, Gaza, Kobani, Aleppo, Mosul, Ramadi, Kirkuk, Fallujah, Raqqa and many other Muslims cities and forceful eviction of the inhabitants of these cities are indeed the text book examples of the state-run terrorism. They have been very successful to kill more than a million of Muslims and evict many more millions from their homes. In Arakan, Myanmar Army is following the same roadmap.  In the past, the forces of the same state-terrorism almost completely cleansed the Red Indians from America, the Aborigines from Australia and Maoris from New Zealand. But the perpetrators of such pure evil on earth are not called Christian, Jewish, Hindu, Buddhist or Chinese terrorist. Even they are not called terrorist either. The word “terrorist” is reserved only for a Muslim. It is an obvious double standard.

Because of such anti-Islamic bias and hatred, one can’t find condemnation and anger against the brutal state terrorism that kills, rapes and blaze the Muslim men, women and children in different parts of the world. The case of genocidal ethnic cleansing in the Rakhine state of Myanmar is indeed the recent example of the most brutal form of state terrorism. In less than three weeks, more than half a million people are evicted from their ancestral homes. More than three thousands Rohingya Muslim men, women and children are slaughtered. Thousands of the women are raped and more than half of the Rohingya villages are burnt down to ashes and made completely inhabitable. The perpetrators of the crimes are the Army, police, security apparatus, state administration, the Buddhist monks and the racist mobs. Although all the terrorist acts in Arakan are exclusively committed by the Buddhists, but no body calls them the Buddhist terrorist. It shows how the corrosive propaganda shapes people’s political narratives.

The worst crime & the lie
Those who can kill, rape, torture and ethnically cleanse people without an iota of remorse, can also tell massive lies without any hesitation. The Myanmar Government -especially its Army, is a perfect example of that. Recently the Army claimed that its recent operation started only after the attack of Arakan Rohingya Salvation Army (ARSA) on police posts. The Army also denies any ethnic cleansing of the Rohingya Muslims. But the report recently published by the UN human rights office (the Guardian, 11/10/2017) tells exactly the opposite. The investigators of the UN organisation found proofs that the Army’s “clearance operations” began before the insurgent attacks on police posts on 25 August. The catalogue of crimes included killings, torture, rape and even rape of children. The UN report also tells that the Myanmar security forces purposely destroyed the property of the Rohingyas. They scorched their dwellings in the northern Rakhine State -not only to drive the population out of the area, but also to prevent them from returning to their homes. The UN report mentions that landmines were planted along the border to stop the return.

The UN report also exposed some horrendous crimes committed by the Army against the young Rohingya people. For example, it quoted a 12-year-old girl from Rathedaung township of Arakan. The girl told: “The security forces surrounded our house and started shooting. It was a situation of panic. They shot my sister in front of me. She was only seven years old. She cried and told me to run. I tried to protect her and care for her, but we had no medical assistance on the hillside and she was bleeding so much that after one day she died. I buried her myself.” The girl didn’t know what happened to her mother and four brothers, nor about her father who was jailed a month earlier. The UN report also gave a description how the security forces -often joined by the mob of armed Rakhine Buddhists, destroyed houses, fields, food stocks, crops and livestock of the Rohingya people. It is the premeditated destruction of properties and houses to make the prospect of Rohingya Muslims returning back to normal lives “almost impossible”. The villages, houses, water sources, crops, shops, food sources and livestock of the Rohingya Muslims have been so badly devastated that if the Myanmar government is forced to take them back, they will have nowhere to go. They can only be jam-packed only in concentration camps -as happened to those who returned after the similar previous evictions.

Now, the architects of state-terrorism have started to manufacture new lies. While the Myanmar government’s genocidal crime of ethnic cleansing has been exposed worldwide, they are now trying to hide it in every possible ways. Telling lies has been taken as the easiest way. Today (14/10/2017), while talking to the Al Jazira reporter, the immigration minister of Myanmar claimed that the exodus of the Rohingya Muslims was pre-planned by themselves to present it like ethnic cleansing to others. This is indeed a desperate move of the government to hide its own despicable crimes. This way they want to establish their own innocence. As if, the Rohingya Muslims killed, raped and evicted their own people themselves! Probably, sometimes they will say, the Army only tried to prevent it! While the Muslim villages were set on fire, they circulated similar lies. They claimed that Muslim villages are burnt by the Muslims themselves.

The UN’s moral failure
Allowing a malicious crime to take its toll is another crime. It is a crime of deliberate omission. Especially, if it is within the capacity of an organisation like the UN to stop it. Myanmar is not a big military power, the UN could easily and quickly stop this tool of the state-run terrorism if it had wished. Moreover, what else could be the most humanitarian service to the worst victims of an appalling crime than this? In fact, such a role of the UN is an indicator to tell whether the organisation is still morally alive or not. But the UN terribly failed on that count. Whereas, those who run the UN didn’t have any doubt about the gravity of the crime of Myanmar government. Even the UN Secretary General Mr. Antonio Guterres had to say that Rohingya people are the “fastest growing refugees in history”. The UN Human Right Commission labelled it as the “text book case of ethnic cleansing”. The international human rights organisations identified them as the “most persecuted minority” on earth. But the UN’s most powerful body called the Security Council didn’t show any intention to stop the crime. It is shameful as well as awful that the Security Council couldn’t find any time to discuss such a terrible act of evil even in three weeks’ time, let alone stop it. Instead, the state-run terrorism in Myanmar gained some added brutality because of visible appeasement by some veto-owning member countries like China and Russia. Therefore, the genocidal cleansing by the Myanmar government received more mileage to continue unfettered.

However, after a long lingering tactic, the members of the UN Security Council could afford to sit in a meeting on 28th of September, 20017. But in the meeting, they could only expose their own moral death. A wolf can’t the see the homicidal crime of another wolf. Those who are running genocidal massacres in Syria, Iraq, Palestine, Afghanistan, Kashmir, and Xinjiang and turning cities into rubbles, how can they condemn the crime of Myanmar Army? Because of their own moral death, they failed to perceive the ongoing crime against the Rohingya Muslims, let alone condemn it. Therefore, the UN session ended without a single word against the perpetrators of the crime in Myanmar. As if, they have seen nothing and have heard nothing.

In fact, such moral death is not new for the UN.  Because of the moral death, the UN’s Security Council stayed only as a dead wood while the horrendous genocide took place in Bosnia in 1992, Rwanda in 1994 and Cambodia in 1975-79. In Srebrenica in Bosnia, the UN peace keepers were even complicit in the massacre of seven thousand Bosnian Muslims. From the UN-run so-called safe haven, the UN’s Dutch peace-keepers handed over the Bosnian Muslims to the Serb killers only to be killed in the nearby killing field. This time too, the UN Security Council has switched off its role to save the Rohingya Muslims from the Burmese genocidal wolves.

Such collective failure of the UN Security Council indeed owes to awful reality of the world’s current geo-politics. Not only the killing fields of Myanmar, the UN Security Council too, is embedded with the people who have visible love for the horrendous killers of other parts of the world. Hence, like the genocide in Cambodia, Bosnia and Rwanda, the genocide in Arakan couldn’t be stopped either. For the same reason, the brutal occupation of Palestine and Kashmir continues with all of its cruelties. The UN itself is hostage to states that carry not only the legacy of genocidal World Wars, but also celebrate the victory in hundreds of other colonial wars –many of them also led to genocidal ethnic cleansings. In such a state of global moral collapse, the state-run terrorism survives not only as the Burmese peculiarity. The US Army in Iraq, Syria and Afghanistan, the Chinese Army in Xinjiang, the Russian Air Force in Syria and the Indian Army in Kashmir are committing the same evil. The perpetrators of such state-run terrorism although differ in race, religion or language, but they are the true ideological cousins. Because of such ideological kinship, they couldn’t show iota of moral ability to utter a single word of condemnation against the Burmese criminals.

The policy of appeasement
Whoever stands silent in front of a killer, can’t be a friend of the victim. Such silence or inaction indeed appease and encourage only the killer. In the holy Qur’an, Allah Sub’hana wa Ta’ala labelled the Muslims as the best people on earth. They are bestowed with such a supreme status only for three reasons: 1). they do the good deeds, 2). eradicate the crimes and 3). they believe in Allah Sub’hana wa Ta’la. (Sura Al-Imran, verse 110). Hence, a Muslim can never be a friend or appeaser of a crime, let alone doing it. But in the case of Rohingya Muslims, the issue is not mere appeasement and encouragement of the crime, it is much worse than that. The countries like Russia, India, Japan and China are not the silent appeasers, they have declared their solidarity with the brutality and ethnic cleansing policy of Myanmar government.

Only the people with proven moral death, show silence or inaction towards the terrible crimes. It is indeed a visible indicator of moral death. Mr Norendra Modi showed such moral death while he was the Chief Minister of Gujrat in India. He presided over the slaughtering of more than two thousands Indian Muslims and rape of Muslim women in Gujrat. Being a terrorist with Muslims’ blood in his hand, Mr Modi discovered anti-Muslim co-believers in the Burmese capital of Naypyidaw. Hence he rushed to Myanmar to say a bravo to his ideological cousins for the accomplished crime that he himself couldn’t carry out against the Indian Muslims. In wars, such moral death of civil and military elites gets easily pronounced –as seen in the genocidal World Wars and in wars of occupation and ethnic cleansing in the past. Such people can take people gleefully to the gas chambers or slit throat of innocent men, women and children. People’s life, liberty, chastity and sanctity do not matter to these morally dead people. They are concerned only with their own political, racial and economic gains. Because of such moral death, 75 million people had to die in two World Wars. And the Red Indians in America and the Aborigines in Australia had to meet ethnic cleansing. Because of similar moral death, the cities are bombed to rubbles and millions of people are killed in Iraq, Syria, Afghanistan, Kashmir, and Palestine. It is a stern reality that the Rohingya Muslims have been subject to similar morally dead people for almost 7 decades.

Deaths, rapes and mass eviction of the Rohingya Muslims owe not only to moral death of the ruling elite of Myanmar. Foreign actors –especially the elites of the UN and the rulers of countries like India, China, Russia, and Japan are also contributing to the crime for decades. On 5th of October 2017, London’s daily the Guardian published a very disturbing report. It exposed the UN’s ongoing severe internal problem. One of the UN’s own commissioned consultant submitted a report on Myanmar in May 2017 depicting the horrendous violation of human rights against these soft targets of racism. His research could find Myanmar Army’s huge preparation for a cleansing operation against the Rohingya Muslims within a very short time. He predicted a very serious deterioration of the situation in Arakan within 6 months. But the UN bosses ignored his crucial report; and even supressed its publication. The prediction proved to be hundred per cent true in September in 2017. Thus the UN shows its severe paralysis to receive any vital signals from its own nerve centres. Because of similar sensory paralysis in the past, the UN remained disconnected from horrendous genocides in Cambodia, Bosnia and Rwanda. The UN failed not only to discharge its own duty, but also kept the whole world in complete darkness about the ongoing horrendous crime on the planet.

Forgery of history & the blue print of genocide
In order to justify the genocidal ethnic cleansing, the Burmese racists distorted Arakan’s true history. They circulate a lie that the Rohingya Muslims are all illegal immigrants from Bengal. Whereas, the truth is otherwise. In most part of the history, Arakan was not a part of Myanmar. It was an independent state till 1784 and was a seat of Muslim sultanate with majority Muslim population. Even the south-eastern part of Bangladesh with its largest port city of Chittagong was a part of it. Since it lies on the bank of Bay of Bengal, it was easily accessible to the Arab traders who came to Arakan to preach Islam. As a result, hundreds of thousands of local people converted to Islam –as happened in Bangladesh, India, South-East Asia and many other parts of the world. Many of the Arab people also settled in this fertile piece of land. The independent state of Arakan was occupied by a Burmese invader in 1784. As result of this brutal foreign occupation, thousands of Arakan Muslims had to flee to the neighbouring state of Bengal to escape persecution and death –as it is happening now.

In 1824, Arakan was occupied by the British. Because of this shift in power, many of the displaced Muslims returned back to their ancestral land. In 1948, after the departure of the British colonialists, Arakan again fell in the hands of Burmese nationalists. During the previous occupations, the original name of Arakan was never changed. But the new Burmese occupiers gave a new name and new narrative to justify ethnic cleansing of its Muslim population. “Rakhine” –the name of a Burmese Buddhist tribe of Arakan was made the official name of historic Arakan. Now it stands as a fully occupied and colonised state of Myanmar.

As per strategy of ethnic cleansing, the Muslim population in Arakan is being continuously decimated, and the number of Burmese Buddhist settlers has been increased by planned migration from other parts of Myanmar. Now the Burmese Buddhists make two-third of the total population of Arakan. Such demographic decline of the Rohingya Muslims gives enough testimony to the success of ethnic cleansing strategy of Myanmar government. In 1952, the Rohingya Muslims were 1.2 million (Source: Countdown to Annihilation: Genocide in Myanmar, London’s Queen Mary University’s research study, published in 2015). Now it is 1.1 million. So there is 8% reduction in Rohingya population in last 65 years –which looks bizarre and unthinkable in comparison to huge population increase in Bangladesh and Pakistan. In the same period of time, the population in Bangladesh showed more than 4 times increase. In Pakistan, the increase was 6 folds. As per census of 1951, in former East Pakistan, the population was 42 million; and in 2017 it is estimated to be 170 million. As per same census, the population was 33.7 million in former West Pakistan in1951; and in 2017, it is 207 million. It shows how the population of the Rohingya Muslims is being continuously annihilated as per a blue print of ethnic cleansing. In fact, such cleansing only had some pauses in the past, but never stopped. And now, the cleansing of Muslims from Arakan has been given a final and an accelerated speed.  14/10/2017