About Muhammad Javed Iqbal Kaleem

A Reading, writing hobbyist. Like to exchange views so that informed decisions are made possible and the persistent false propaganda of the powers that be could be countered. I am a great believer in collective conscience of humanity as mankind has been bestowed with the capability to distinguish between good and bad. I am open to new views and ideas.

اس راز کو کر فاش اے روح ِ محمد صلی اللہ علیہ و سلم

قربان تریے نام کےمیں میرے اب و جد                   ہوں بار صداقت کا امیں ہوں نیک یا کہ  بد

کشمیر و فلسطین ہی پہ موقوف نہیں کچھ                     ہے آج میرے واسطے یہ روئے زمین مشہد

اس راز کو کر فاش اے روح محمد                           آیات قرانی کا  نگہبان کہاں جائے؟

Advertisements

آخری دور میں کیسے جیءیں؟

اپنے آپ کو دہرانے کے خدشے کے باوجود پھر عرض کررہا ہوں کہ ہم آخری دور میں جی رہے ہیں۔ حدیث کے تمام معروف مجموعوں میں ” دور فتن ” کا باب ملتا ہے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے آخری دور میں پیش آنے والے وققعات و سانحات کا تفصیلی تزکرہ فرمایا ہے۔ اور وہ نشانیاں بتائی ہیں جو آخری دور کے شروع میں ظاہر ہوں گی۔ مثلا یہودیوں کی اسرائیل میں واپسی عرا ق و شام پر کافروں کے حملے اور مسلمانوں کا قتل عام۔ گویا مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے عیسائی اور یہودی ایک دوسرے کو مدعو کریں گے جیسے کھانا کھلانے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔
ایک روز آپ نے فجر سے ظہر تک خطاب فرمایا اور آخری دور کی نشانیاں بیان کیں۔ تاکہ ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرلیں۔
ہر صبح کا آغاز توبہ سے کریں۔ اور عزم کریں کہ آئندہ گناہ نہیں کریں گے۔ 1

نمازوں کی پابندی کریں اور کوئی نماز قضا نہ ہونے دیں۔2

نیکی کا حکم کریں اور قریبی لوگوں کو برائی سے روکیں3
جہان تک ہوسکے غریبوں کی کفالت کریں۔
اللک ی راہ میں خرچ کی گئی رقم کم از کم دس گنا
دنیا میں اور کم از کم 70 گنا آخرت میں واپس مل جاتی ہے۔ یہ حضور کا وعدہ ہے۔
اس آخری دور میں اللہ تعالیٰ کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جہنم سے بچالیں۔ جبکہ شیطان مردود پوری کوشش کررہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جہنم کا مستحق بنادے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام اور میڈیا نہ ہمیں فحاشی

حالانکہ کئی ادارے بظاہر یہ کام کرنے پر مامور ہیں۔
ہمیں یاں سے بچاتا ہے اور نہ پاکیزگی اور کی تلقین کرتا ہے۔

روزانہ کم از کم ربع سیپارہ معنیٰ کے ساتھ تلاوت کرنا لازم ہے۔
ایسے مولویوں اور صحا فیوں سے دور رہنا لا زم ہے جو حکمرانوں کے چمچے ہوں مثلا مجیب الرحمٰن شامی اور الطاف حسن قریشی ۔ اس کے علاوہ زرداری کے دور میں پی ٹی وی کا چیئر میں بننے والا شاہد مسعود۔
حضور نے بتایا ہے کہ دجال سے خواتین کو بچانے کے لیے ان کے بھائیوں اور والد کو ان یت ھیں رسی سے بندھنا ہوگا۔ ظاہر ہے اسکی وجہ ٹی وی کی مستقل سماعت

محمد جاوید اقبال کلیم

کراچی 19 جنوری 2018

Implementation of Shariat Law is Must!

2006 کا ذکر ہے   کسی لڑکی نے جو  قصور کی رہنے والی تھی جنگ کے سینیر ایڈیٹر  ارشاد   احمد  حقانی  کو خط لکھا کہ اس کی عزت کو کسی با اثر آدمی  سے خطرہ  لاحق ہے۔اور فوری توجہ پر  زور دیتے ہوئے یہ شعر  لکھا:ہم   نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن ۔۔۔۔ خاک ہوجائیں گے ہم  تم کو  خبر ہونے تک۔۔  ارشاد احمد حقانی نے کسی ذمہدار افسر سے رابطہ کیا۔  لیکن  جنگ نے حکومت کی مکھن بازی ترک نہ کی۔ اگر اسی وقت   نا اہل پولس افسروں کو ہٹانے کی

ہیم چلائی جاتی تو حالات اس قدر خراب نہ ہوتے۔  پولس کی  ریکروٹمنٹ سیاستدانوں کے ہاتھ میں آجانے سے  نا اہل اور کرپٹ پولس بھرتی ہوتی ہے اور  ظالم  قاتلوں کو کھلی چھوٹ ملجاتی ہے۔  امیر ہر  سزا سے بچ  نکلتے ہیں۔ اس  صورتحال  کی ذمہ داری   عدالت عظمی ٰ پر بھی   عائد ہوتی ہے جہاں انصاف کے حصول میں برسہابرس  لگ جاتے ہیں اور جج حضرات  فل کورٹ ریفرنسز میں وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ میں نے  جنگ میں بطور کالم نگار کئی بار لکھا کہ  عدلیہ کو  مقدمات کے انبار سے نکلنے کے لیے  دو یا تین  شفٹون میں کام کرنا چاہیئے ۔ لیکن   غریب  جیلوں میں جرم بے گناہی کی سزا بھگتے رہتے ہیں اور امیر  کچھ  کردیں۔  ان کے وکیل  انہیں سزا    سے  بچالیتےیںی

برطانیہ  کا  یہ فرسودہ اور ناکارہ  سسٹم اب ختم ہوجانا  چاہیئے تھا ۔ لیکن برطانیہ  اور امریکہ کے پٹھو حکمراں   ایسا  ہونے نہیں دیتے ۔ دینی جماعتیں بھی اس   قدر گمراہ اور لالچی ہوچکی ہیں کہ   شرعی   سزاءوں کے نفاز کے لیے  جد و جہد  نہیں کرتیں۔ اب بھی  موقع ہے   کہ   تمام  دینی جماعتیں  متحد ہو کر  شریعت کے نفاز کے لیے  جدو جہد کریں۔  سورہ ابراہیم میں اللہ  ۔ ککاش ہمتعالیٰ کا  فرمان ہے کہ اے  اہل کتاب تم کسی چیز پر نہیں ہو جب تک اپنے  ضابطہ اخلاق کو اپنی زمین  پر نافذ نہ کرو

پاکستان کو اسلام کے نام پر قائم  ہوئے ستر برس ہوگئے ہیں اور ابھی تک  اس  کے حکمرانوں کو  شرعیت  نا فذ کرنے کی توفیق نہیں ہوسکی ہے۔ کاش  ہمارے نوجواں اپنی ذمہ  داری محسوس کریں اور اٹھ کر  پاکستان کے فرسودہ   شیع یہبرطانوی  قانون کو  محمد مصطفےٰ کے لائے ہوئے شرعی نطام   سے  تبدیل کرسکیں

شریعت کا  نفاذ فرض عین بن چکا ہے  اب بھی اس  سے گریز  کیا گیا تو معاشرہ  درندوں کا جنگل   بن جائے گا۔

کراچی    13 جنوری 2018

محمد جاوید اقبال کلیم۔

Result of non implementation of Shariah Law

 

ستر برس ہوچکے  لیکن ابھی تک شریعدت کا نفاز ٹلتا رہے ہے کیوں کہ   پاکستانی حکمرانوں کے امریکی آقا  اسے  ۔ پسند نہیں کرتے۔  ان احمقوں کو اندازہ نہیں کہ  اللہ تعالیٰ  شرعی  قانون نافذ نہ کرنے پر کتنا  غصبناک ہوتا

ہے۔ کلام پاک میں فرمان ہے کہ اے یہود و نصاریٰ تم کسی چیز پر نہیں ہو جب تک تم توریت اور انجیل کے ضابطہ ء قانون کو  نافذ نہ کر دکھاءو۔   جماعت اسلامی  جو نفاذَ شریعت کی دعوت لے کر اُٹھی تھی  زبانی  کلامی    بیانا ت جاری کرنے کے سوا کچھ نہ کرسکی۔ خود اس کی قیادت میں فضل اللہ جیسے مخلص رہنما تھے  ) سا بق امیرجماعت اسلامی  سوات) کو حکومت کی سزا کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا۔  کاش جماعت میں غیرت و حمیت کی کوئی رمق باقی ہوتی تو وہ  اس وقت تک خاموش نہیں ہوتی  جب تک پاکستان کی حدود میں شرعی قانون نا فذ نہ ہوجاتا

سچ ہے کہ   غیور شخص ایک بار مرتا ہے اور بے غیرت بار بار۔   مصر میں  اخوان المسلمین نے  شریعت کےلیے سر

ڈھر کی باازی  لگادی۔ اس لیے کہ وہ اہل زبان  ہونے کے ناظے  دین کے تقاضون سے  آگاہ تھے۔ کے امیر  حسن البناء  بیس برسوں تک جیل میں محبوس رہے اور جب اپنے مطالبے سے باز نہ آئے تو انھیں  سولی دیدی گئی۔ کاش  لیکن  سید مودودی  کے بعد    حکومت سے مفاہمت کرنے   والے بے حمیت   امیر  مقرر ہونے لگے ۔ حتیٰ کہ  جماعت  کی امارت  سراج الحق جیسے  دولت کے بھوکے شخص کے  ہاتھ لگی۔  اگر  شریعت نافذ ہوجاتی تو  آسمان سے اللہ کی رحمت  برستی اور  امریکہ کی دھمکیاں دھری کی دھری رہ جاتین کیونکہ   اللہ جسے ساتھ ہو اسے کوئ  شکست نہیں دے سکتا۔

معاشرے کی تباہی کا  اہم  سبب بھارتی  فلموں اور ڈراموں کی  پاکستانی  سنیما گھروں اور کیبل پر نمائش ہے۔ بھارت میں جنسی جرائم  جس طرح عام ہیں حتیٰ کہ  ٹرینوں اور  بسوں میں  خواتین پر  جنسی حملے ہوتے ہیں اس کا  سبب اُس کی  فلموں کی بے حیائی اور   بے راہ روی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلم معاشرے میں فحاشی اور عریانی  پھیلانے کو  بدترین مجرم قرار دیا ہے۔ لیکن وطن عزیز میں نہ تو حکومت، نہ بیوروکریسی اور نہ جنرلز کو  قوم کی اخلاقی  اقدار کی حفاطت کا  شعور ہے اور نہ  میڈیا میں کوئی  حمیت رہگئی ہے۔

کاش ہماری  نوجوان  نسل کو غیرت آئے اور وہ  شریعت کے قاانون کو نافذ کیئے بغیر چین سے نہ  بیٹھے۔

 

کراچی  11  جنوری 2018

محمد جاوید اقبال کلیم

 

 

سچوں کے ساتھ ہوجاءو۔۔۔ کونو مع الصادقین

 سورہ توبہ میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے: کونو مع الصادقین۔ یعنی سچوں کے ساتھ ہوجاءو۔   صرف مسلمان سچے ہیں  ےس ایک سچے رب پرایمان لائے ہیں اور ان کے رسول   صلی اللہ علیہ و سلم آخری رسول ہیںاس لیلےغیرمسلم ملکوں میں رہائش اختیار حاصل کرنا حکم ربانی کی خلاف ورزی  ہے۔ میں نے اپنے  کئی دوستوں کو جو امریکہےکینڈا  یا آسٹریلیا  یا  برطانیہ میں مقیم ہیں بار بار بتایا کہ انھیں  تعمیل حکم کرتے ہوئے کسی مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنا چاہیئے۔ میں کہتا رہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ  غیر مسلم ہمیشہ امیر رہیں گے اور  مسلمان ہمیشہ غریب۔ لہذا انھیں اللہ تعالیٰ  پر بھروسہ کرتے ہوئے  پاکستان یا کسی اور مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنا چاہیئے۔ لیکن جیسا کہ   رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و سلم  نے پیشن گوئی فرمائی ہے کہ آخری دور کے مسلمان  دنیاوی دولت کے اس قدر شائق ہو جائیں گے کہ   جائز اور نا جائز دیکھے بغیر دولت کے حصول میں لگ جائیں گے۔ اس لیے وہ   بظاہر خوشحال لیکن حقیقتاً کھوکھلے عیسائی کہلانے والے ممالک میں سکونت  اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اور اپنے مسلم ممالک کو چھوڑ دیا ہے۔

بھائیو اور بہنو!   اللہ کے لیے  عقل  وہشعور سے کام لو اور مسلم ممالک میں سکونت آختیار کرلو۔ دجال کے نکنے کا  وقت قریب ہے۔ غیر مسلم معاشرے  جرائم سے بھرے ہوے ہیں۔ اس وقت  دنیا میں سب  سے زیادہ جرائم   امریکہ میں ہورہے ہیں پھر بھارت اور برطنیہ میں۔  لہزا عقل کے ناخن لواور اپنے وطن میں لوٹ آئو

پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ تھی!

کراچی 3 جنوری  2018                                          محمد جاوید اقبال کلیم

 

اپنی کتاب اپنی زمین پر نافذ کرنا لازم ہے

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّىَ تُقِيمُواْ التَّوْرَاةَ وَالإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا فَلاَ تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ

اللہ تعالیٰ نے  یہود و نصاریٰ سے فرمایا ہے کہ  تمہارے ایمان کی کوئی  وقعت نہیں ہے جب تک تم اپنی کتاب  کو اپنی زیر  تسلط زمین پر نا فذ نہ کردکھاءو۔  ہمارا آج کا المیہ یہی ہے کہ  ہم بجائے قران کو نافذ کرنے کے اس کی تلاوت کو کافی   لیتے ہیں۔ اور ہمارے زوال کی وجہ یہی ہے کہ ہم قران کو سچ مانتے ہوئے بھی اس پر عمل نہیں کرتے۔  انفرادی

نیکی بے معنی ہے جب تک قوم کا اجتماعی  شعور اسے قران کی ہر ہدایت پر عمل کرنے کا پابند نہیں کرتا۔ ذکر تو  آسمان کے پرندے اورسمندر کی مچھلیاں بھی کرتی ہیں۔  انسان کو جو ذکر  عطا  کیا گیا  ہے و قران  مجید ہے  جس کے متعلق   اللہ  تعالیٰ نے فرمایا کہ  ہم ہی نے ذکر نازل فرمایا اورہم  ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ اشرف المخلوقات

کی حیثیت سے ہمارا فریضہ قران  سمجھ کر پڑھنا اور اسے نافذ کرنا ہے۔ اس  کے ذریعے  نہ  صرف  معشرے میں امن و سکون پیدا ہوگا بلکہ  معاشی خوشحالی بھی آئے گی۔  تعلیم یافتہ اور با شعور ہونے کے سبب  ہمیں چاہیئے کہ   صرف سچ بولیں اور سچوں کا  ساتھ دیں۔ جیسا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اے ایمان لانے والو سچوں کے ساتھ ہوجاءو۔  ہم   برما    لیبیا      فاشام عراق لیبیا  افغانستان  اور  یمن میں مسلمانوں کا قتل عام دیکھ چکے ہیں اور  نائیجیریا اور صومالیہ میں مسلمانوں  ۔کو فاقے کرتے اور پیاس سے ترستے دیکھا ہے۔  ہم  دودھ کے دھلے ہوئے نہیں ہیں کہ ہم پر

عذاب نہ آئے۔ ہمیں  غریب بھائی بہنوں کی مدد کرنی چاہیئے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا چاہیئے اور  نیکی کا حکم دینا چاہیئے اور برائی سے  روکنا چاہیئے۔ اگر ہم قران کو  نافذ اور  غالب نہ کرسکے تو

ہماری داستان بھی نہ ہوگی داشتانوں میں۔

کراچی   11 نومبر  2017                                                                                                  محمد جاوید اقبال

کون کہتا ہےاب معجزے نہیں ہوتے

کوئی آٹھ دس سال پہلے کی بات ہے میری ملاقات فصیح صاحب سے ہوئی۔ وہ کمیونسٹ تھےاور اللہ پر یقین نہ رکھتے تھے۔ ایوب دور میں انھیں گرفتار کیا گیا۔ ان کو تنگ کرنے کے لیے دن میں بھوکا رکھا جاتا اور پھر رات کو جب وہ بھوکے ہوتے تو پیٹ بھر کے کھانا کھلایا جاتا۔ انہیں نیند آنے لگتی تو سونے نہ دیا جاتا۔ تاکہ وہ اپنے کمیونسٹ ہونے کا اعتراف کرلیں۔ لیکن وہ بھوکے رہنے کو ترجیح دیتے۔ پھر انھیں سزا ہوئی اور کئی برس جیل میں رہے۔
وقت گذرتا رہا۔ تا آنکہ امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کی مدد سے سویت یونین کو شکست دیدی۔ فصیح صاحب بہت دل شکستہ ہوئے۔ ان کی آمدنی کا ذریعہ چھن گیا۔ناچار وہ کسی ہوٹل کے بکنگ کلرک کی حیثیت سے خلیج چلے گئے۔
لیکن چند برس ہی جاب کی ہوگی کہ انھیں کینسر ہوگیا۔ ناچار پاکستان آئے۔ تو بیوی نے جو مسلماں تھیں انھیں بتایا کہ حکیم سعید صاحب نے کینسر کا علاج تلاش کرلیا ہے اور عام سی جڑی بوٹیوں سے علاج کرتے ہیں۔ انھیں یقین نہ آیا۔ لیکن کوشش کردیکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔ لہذا حکیم سعید صاحب کو دکھانا شروع کیا ۔وہ یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ حکیم صاحب محض نیم کے پتوں سے کینسر کا علاج کرتے ہیں۔ اور چند ہی ماہ
ےامیں وہ صحتیاب ہوگئ
س کے بعد کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ پھر سے مسلماں نہ ہوجاتے۔