بندہ ہے کوچہ گرد ابھی خواجہ بلند بام آبھی

کل بینک سے رقم نکلوا کر لوٹ رہا تھا۔ وہیں ایک فری ریستوراں بھی ہے جہاں غریبوں کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ سڑک زیر تعمیر تھی اور وہاں مٹی کا ایک ڈھیر جمع تھا۔ میں نے دیکھا پانچ چھے سال کا ایک بچہ دوڑتا ہوا آتا اورمٹی پر کود جاتا۔ کبھی کبھی وہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتا۔ مجھے وہ بچہ اچھا لگا میں نے پوچھا بیٹے آپ نے ناشتہ کرلیا۔ نہیں اپنی باری کا انتظار کررہا ہوں۔ اس نے ریستوراں کی جانب اشارہ کیا جہاں غریبوں کو مفت کھانا دیا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ایک وقت صرف دو لوگ آئیں۔۔ مجھے اس کی معصومیت اور سرخوشی اچھی لگی۔ میں نے سوچا جب تک انقلاب نہیں آتا ہمارے بچے اسی طرح رُلتے رہیں گے۔
جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زند گی روح امم کی حیات کش مکش انقلاب
اس بچے کو تو میں نے پراٹھا دلادیا ۔ وہ اسی پر خوش ہوگیا۔ اور یہ بھی نہ سوچاوہ کس سے کھاـءوں گا؟ لیکن میں سوچنے لگا کہ قومی وساءل کا ایک تہائی تو سود کی ادائیگی میں لگ جاتا ہے۔ نصف فوج کھاجاتی ہے۔ باقی کرپٹ حکمراں کھاجاتے ہیں۔ عوام بے چارے کیا کریں؟پاکستان کے قیام کو ستر برس ہوچکے ہیں۔ پھر بھی ہمارے عوام ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔
بندہ ہے کوچہ گرد ابھی خواجہ ہے بلندبام ابھی عشق گرہ کشا کا فیض نہیں ہے عام ابھی

صبروضبط کی بھی حدہوتی ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بستی میں لوگ غربت کے سبب بھوکے سوجائیں اس پرسے اللہ کی حفاظت ہٹالی جاتی ہے۔ اللہ نے کچھ لوگوں کو زیادہ رزق اس لیے دیا ہے کہ وہ ان کی آزماءش کرنا چاہتا ہے کہ وہ اس میں سے غرباء و محروم افراد کا حق نکالتے ہیں یا نہیں۔ کم ہی لوگ اس ٓآزمءش پر پورے اترتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ نے ضمانت دی ہے کہ صدقہ کا کم ازکم دس گنا دنیا میں واپس کیا جاتا ہے اور ٓآخرت میں کم از کم سترگنا اس کا ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ افسوس مولوی صدقہ خیرات کی طرف کم ہی لوگوں کی توجہ مبذول کراتے ہیں۔ زیادہ زور رسومات عبادات پر ہے۔ حقوق العباد کی بات کوئی نہیں کرتا۔ کیوںکہ یہ علم اگر عام ہوجائے تو عوام کبھی کرپٹ حکومتیں برداشت نہ کریں۔ یہاں تو طارق جمیل فضاءل اعمال کے نام پر ضعیف حدیثیں سناکر لوگوں کا وقت ضاءع کرتا رہتا ہے۔ اور حکومت کی خرابی کو عوام کے اعمال کی خرابی سبب قرار دیتا ہے۔ اس ضمن میں حکومت اسے مفت حج اور دس لاکھ روپئے کی رشوت دیتی ہے۔ ایسے ہی بد نہاد مولوی قوم کی بدنصیبی کا باعث بنے ہوئے ہیں

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s