Short sightedness of Ummate Muslimah

امت کی بے بصیرتی
متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی یہ کس کافرادا کاغمزہ خون ریز ہے ساقی
بالعین جیسا اقبال کی چشم پیش بیں نے دیکھاتھا عالم اسلام کے رہنما مل کر کفرضلالت کے سرغنہ امریکہ کو اپنی دولت اوروسائل سے مالامال کررہے ہیں۔ سعودی عرب اربوں ڈالر ضائع کرکے امریکہ کا فرسودہ اور بے کار اسلحہ خریدرہا ہے اور ایران امریکی اشارے پر سعودی عرب کے لیے خطرہ بن گیا ہے ۔ اس کی منافقت اس حقیقت سے واضح ہے کہ وہ شام میں علویوں کی کافر حکومت کی مدد کے لیے فوجی اور مادی مدد کررہا ہے اور روس کی بے دین و کافر حکومت اس کی مدد میں مظلوم مسلمانوں پر بم برسارہی ہے۔ اللہ ہی ہے جو شام کے ولی صفت مسلمانوں کی مددفرمائے۔کیوں کہ سعودیوں کا توکل اللہ پر نہیں ہے وہ اپنی حفاظت کے لیے امریکہ کو رشوت دے رہا ہے۔ جبکہ ایران لبیک یا مہدی کہہ کر یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ امام مہدی کی نمائندگی کررہاہے۔حالانکہ شام کے ولی صفت مسلمانوں پرنہ صرف وہ بمباری کررہا ہے بلکہ روس سے بھی مسلمانوں پر بم برسارہا ہے جن کا واحد قصور صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کی وحدانیت میں یقین رکھتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشار الاسد کے قبیلے کا نام تک بتادیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کرے گا۔ اللہ کا احسان ہے کہ ہم اندھیروں میں نہیں ہیں بلکہ واضح طور پر بُرے اور بھلے کو پہچان رہے ہیں۔اقبالؒ نے صاف صاف بتادیا ہے:
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار وہی مہدی وہی آخر زمانی
یعنی ہمیں حضرت امام مہدی کے انتظار میں نہیں بیٹھے رہنا چاہیئے بلکہ جو بن پڑے مظلوم مسلمانوں کے لیے کرنا چاہیئے۔ خواہ وہ دعا یا معمولی مالی امداد ہی کیوں نہ ہو۔ اس آخری دور میں صبر ہی ہمارا طرزعمل ہونا چاہیئے کیوں کہ دنیا کی کوئی طاقت رب تعالیٰ کو شکست نہیں دے سکتی۔ اللہ رب العزت نے دوسری ہی سورت میں صاف صاف بتادیا ہے:
وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر۔
(اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست ہے نہ مددگار)
کرنے کا اصل کام تو یہ ہوتا کہ عالم اسلام متحد ہوکر عالم کفر کے سامنے ڈٹ جاتا جیسے افغان اور شامی مسلمان ڈٹ گئے۔ لیکن قیادت کا فقدان اس لائحہ عمل کی راہ میں مزاحم ہے ۔ لہذا ہم صبرسے کام لے کرہی اس مصیبت کو ٹال سکتے ہیں۔ البتہ مسلمان قوم کو آگہی فراہم کرنا ہمارا فریضہ ہونا چاہیئے۔اگر ہم امت مسلمہ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا قائل کرسکے تو ہم زوال امت کو کسی نہ کسی حد تک ٹال سکتے ہیں۔ البتہ اگر ہم نے قوم کو تبلیغی نصاب کی رسوماتِ عبادت پر چھوڑدیا توامت مسلمہ کے سنبھلنے کا کوئی چانس نہ رہ جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ انگریز نے اپنے دور میں تبلیغی جماعت اورقادیانی جماعت کی داغ بیل رکھی تاکہ مسلمان بھی جہاد کا خیال بھی دل میں نہ لاسکیں اور ہندوستان پر ان کی حکومت ہمیشہ قائم رکھی جاسکے۔ وہ تو اللہ بھلا کرے علامہ اقبال کا جن کی کوششوں سے دیوبندی منافقت اور ابوالکلام کی گاندھی کے ساتھ مل کرکی گئی سازشوں کا راز بے نقاب ہوا اور قیامِ پاکستان ممکن ہوا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s