خون مسلم کی ارزانی

غم کے طوفاں سے ستلج کے کنارے بے تاب ایک سیاہی سی رخ خورشید پہ پھرنے کے قریب
چاند خود اپنی جگہ ٹوٹ کے گرنے کے قریب

یہ ایک بھولی بسیری نظم کے اشعار ہیں جو 1947 میں مسلم لہو کی ارزانی کے بارے میں کہے گئے تھے۔ کتنے لوگوں نے انھیں فراموش کردیا لیکن بعض درد آشنا دل انیھں نہ بھلا سکے۔
ان کا پلان انگریز حکمرانون نے بنایا تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے اس کا نفاذ کیا تھا۔ اور سکھوں اور ہندءوں نے ان کو عملی جامہ پہنیا یا تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے ابوالکلام آزاد اور حسین احمد مدنی نے قومی غداروں کارول ادا کیا تھا۔ ان مردودووں کو خدا کا ذرا خوف نہ تھا
اور قہر تو یہ ہے کہ ان کے چیلے چپاٹے ہی اج کے نام نہاد علماء کے سرخیل بنے ہوئے ہیں۔شرمو حیا تو انھیں چھوکر نہیں گذری جو خود اپنی غلطی کا اعتررف کرکے کنارہ کش ہوجاے۔
آج بھی حسین احمد مدنی اور ابوالکلام کے تابعیں وطن عزیز میں وافر مقدار میں مل جاتے ہیں۔۔
اللہ انھیں قرار واقعی سزا عطا فرمائے۔
نظم کی کتابوں کے علاوہ دردمند دل رکھنے والے انساںون نے ” جب امرتسر جل رہا تھا” جیسی کتابیں لکھیں اور نئی نسل کو احساس دلایا کہ کتنی قربانیوں کے بعد وطن عزیز آزادی کی نعمت سے سفراز ہوا۔ بھارتی حکومت بھارتی مسلمانوں سے نئی تاریخ لکھوا رہی ہے اور عظیم مسلم فاتحین کی کردار کشی کررہی ہے۔ کل ہی میں نے ایک بھارتی رائیٹر سے احمد شاہ ابدالی ؒ کے کردار کے بارے میں ہرزہ سرائی دیکھی۔ وہ عظیم مجاہد جو صف 45 ہزار کی فوج سے مرہٹوں کے نو لاکھ کے لشکر کو خاک چٹا چکا تھا اسے لالچی اور بد کردار دکھایا گیا۔
بھارت جانتا ہے جب تک مسلمان اللہ کے حکم پر چلتے رہیں گے۔ کامیابی ان کے ہمراہ رہے گی۔ اسی لیے وہ اپنی مکارانہ چالوں سے باز نہیں آریاہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s