خضر راہ

علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ قران کریم کے بہترین مفسرتھے۔ انہوں نے اپنی بصیرت سے سورہ الکہف کے معنی سمجھ لیے تھے۔ اس لیے ان کی نظم خضر راہ سے اقتباس پیش کررہا ہوں۔ غور کرنے سے آخری دور کے پوشیدہ راز کھلیں گے۔

اے تری چشمِ جہاں بيں پر وہ طوفاں آشکار
جن کے ہنگامے ابھی دريا ميں سوتے ہيں خموش

‘کشتئ مسکين‘ و ‘جانِ پاک’ و ‘ديوارِ يتيم‘،
علمِ موسیٰ بھی ہے تيرے سامنے حيرت فروش—(1)

چھوڑ کر آبادياں رہتا ہے تو صحرا نورد
زندگی تيری ہے بے روز و شب و فردا دوش

زندگی کا راز کيا ہے، سلطنت کيا چيز ہے
اور يہ سرمايہ و محنت ميں ہے کيسا خروش

ہو رہا ہے ايشيا کا خرقہءِ ديرينہ چاک
نوجواں اقوامِ نو دولت کے ہيں پيرايہ پوش

گرچہ اسکندر رہا محرومِ آبِ زندگی
فطرتِ اسکندری اب تک ہے گرمِ نائونوش

بيچتا ہے ہاشمی ناموسِ دينِ مصطفیٰ
خاک و خوں ميں مل رہا ہے ترکمانِ سخت کوش—(2)

آگ ہے، اولادِ ابراہيم ہے، نمرود ہے
کيا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے!

(1)—سورہ الکھف کی آیات 60-82 کا خوب خلاصہ کیا ہے۔(دیکھئے :الکھف ربط)

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s